48

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس

اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں کمرشل کونصلرز کی مختلف سفارتخانوں میں تعیناتی ڈپلیکس بورڈ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کرنے کے معاملے اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پورٹ قاسم پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے معاملے پر غور کیا گیا۔
ڈپلیکس بورڈ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کرنے کے معاملے پر کمیٹی نے نیشنل ٹیرف کمیشن کو ایک ماہ کے اندر شراکت داروں سے مشاورت کرنے کی سفارش کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ شراکت داروں سے مشاورت کر کے ایک ماہ کے اندر رپورٹ فراہم کی جائے اور جن صنعتوں کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں ان کی فہرست مرتب کی جائے۔کمیٹی نے ڈپلیکس بورڈبرآمد کنندگان کے نقطہ نظر کو بھی تفصیل سے سنا۔ چیئرمین کمیٹی اور ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے اور ان عوامل پر کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ہماری تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔کمیٹی نے مقامی صنعت کو زیادہ سہولیات فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی معاشی صورتحال مستحکم ہو گی تو مشکلات پر قابو پانے میں آسانی ہوگی۔چیئرمین کمیٹی نے مقامی انڈسٹری کو تحفظ دینے اور برآمدات کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔کمرشل کونصلرز کی تعیناتی کو زیر بحث لاتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ تعیناتیوں کیلئے امتحان لیا گیا تھا اور کمرشل کونصلرز کے حالیہ تعیناتیوں میں کامرس اور ٹریڈ گروپ سے افسران کی تعداد تقریباً 50 فیصد ہے۔حکام نے بتایا کہ کمرشل کونصلرز کی تعیناتی کے دوران کسی سمندر پار پاکستانی کو تعینات نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے ہدایات دیں کہ جو لوگ کمرشل کونصلرز تعینات ہوئے ہیں ان کی فہرست کمیٹی کو فراہم کی جائے جبکہ 54 ممالک میں تعینات کمرشل کونصلرز کی کی کارکردگی کی رپورٹ بھی کمیٹی نے طلب کر لی۔سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ کمرشل کونصلرز کی تعیناتیاں میرٹ پر نہیں ہوئیں اور ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی اس کو تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے پورٹ قاسم پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کو رلیز کرنے کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایات دیں اور کہا کہ اس مسئلے کا مناسب حل جلد ازجلد نکالا جائے۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر سید شبلی فراز، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی، محمد طاہر بزنجو، امام دین شوقین،ذیشان خانزادہ اور محمد طلحہ محمود کے علاوہ وزارت کامرس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں