PM-Imran- 41

وزیراعظم عمران خان کا آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

مظفرآباد۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا ایمان ہے کہ نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا 5 اگست کو جو اقدام اٹھایا ہے اسی سے کشمیر کی آزادی کا راستہ نکلے گا،تحریک آزادی کشمیر سیاسی، سفارتی اور ذرائع ابلاغ کی سطح پر کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے، کشمیری رہنماﺅں کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جس کے بعد اگلا مرحلہ شروع کریں گے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی 11دن میں پاکستان کو فتح کرنے اور بھارتی آرمی چیف کی آزاد کشمیر فتح کرنے کی باتیں کوئی ذی شعور آدمی نہیں کر سکتا جب دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہوں، یہ گھبرائے ہوئے لوگوں کی باتیں ہیں، مودی حکومت 5 اگست کے اقدام کے بعد بری طرح پھنس چکی ہے، مودی اگر اپنے حالیہ اقدام سے پیچھے ہٹتا ہے تو اسے انتہا پسند ہندوﺅں سے خطرہ ہے جبکہ وہ مزید ایسے اقدام اٹھاتا ہے تو وہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو گا، آر ایس ایس کے نظریے اور ہندوتوا کے حوالے سے دنیا نے ہماری بات کو اہمیت دی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے اراکین پارلیمنٹ اپنے اندر مایوسی نہ لے کر آئیں، مایوسی گناہ ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت ایمان کی آزمائش کےلئے آتے ہیں اور قرآن بھی ہمیں یہی بتاتا ہے تاہم اس مشکل وقت میں صبر اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور میں اس حوالے سے کسی شک اور ابہام کا شکار نہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکلیں گے اور پاکستان دنیا کا عظیم ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے چھ ماہ قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جو اقدام اٹھایا میرا ایمان ہے کہ اس کی وجہ سے کشمیر آزاد ہو گا، اگر وہ یہ اقدام نہ اٹھاتا تو ہم دنیا کو کچھ نہیں بتا سکتے تھے، مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم 5 اگست سے پہلے بھی جاری تھا، معصوم لوگوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا تھا، یہاں ہونے والی شہادتوں پر دنیا کو کوئی فکر نہیں تھی اور کہیں سے کوئی اس حوالے سے آواز نہیں اٹھتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت اب ایک سنگین غلطی کر چکا ہے اور اب اس سے پیچھے نہیںہٹ سکتا، مودی نے یہ غلطی بڑے مینڈیٹ کی وجہ سے کی ہے، اس کی پوری انتخابی مہم پاکستان کو سبق سکھانے، ہندو نیشنل ازم اور ہندوتوا نظریے کے فروغ پر محیط تھی، وہ آر ایس ایس کے نظریے کو لے کر آگے بڑھا ہے، آر ایس ایس کا یہ فلسفہ اس کے بانی کے نازی ازم سے متاثر ہو کر رکھا گیا، اس کے بانی نے اپنی کتاب میں یہودیوں کے قتل عام کی تحسین کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کے بعد ہمیں دنیا کو اس نظریے کے بارے میں سمجھانے کا موقع ملا، پاکستان کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران میں نے بتایا کہ آر ایس ایس کا فلسفہ کیا ہے پھر میں قانون ساز اسمبلی میں آیا اور آپ سے وعدہ کیا کہ میں پاکستان کا سفیر بنوں گا اور اس حوالے سے میں نے اپنی پوری کوشش کی، دنیا کے جس فورم پر بھی میں گیا وہاں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور آر ایس ایس کا فلسفہ دنیا کے سامنے رکھا، مختلف ممالک کے سربراہان کو اس حوالے سے آگاہ کیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تین بار مسئلہ کشمیر سمجھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ مغربی دنیا کو بخوبی جانتے ہیں ان کے تجارتی مفادات جڑے ہیں، انہیں ایک بار سمجھانے سے سمجھ نہیں آئے گی اس کے لیے انہیں بار بار آگاہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا میں اخبار میں نازی فلسفے کے حوالے سے چھپنے والی خبروں یا مضامین سے وہاں کے لوگ اس سے نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ 6 کروڑ اس کا نشانہ بنے، وہاں کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویو میں اس فلسفے کو بے نقاب کیا، نیویارک ٹائمز کے بورڈ کو اس فلسفے کے خطرات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس کے فلسفے سے سب سے زیادہ خطرہ بھارت کو ہے، وہاں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو بھی اس فلسفے سے خطرہ ہے، بھارت میں 20 کروڑ مسلمان بستے ہیں، سٹیزن ایکٹ کے قانون کے تحت ان کو دیوار سے لگا دیا گیا، جس طرح نازی ازم کے پالتو غنڈے براﺅن شرٹ میں اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اسی طرح آر ایس ایس کے پالتو غنڈے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ بھارت کے لیے خطرہ ہے، ہم نے دنیا کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیویارک ٹائمز میں 3 اداریے لکھے گئے ، میں نے مضمون لکھا، دنیا سمجھ گئی ہے اور بھارت میں بھی اس فلسفے کے خلاف تحریک شروع ہو چکی ہے، وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ راستہ تباہی کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں نسل پرستی اور نیشنل ازم کا جن جہاں بھی بوتل سے نکلتا ہے اس کے بعد وہاں خون اور تباہی آتی ہے، روانڈا میں 10لاکھ لوگ مارے گئے ، میانمر میں 1982ءمیں رجسٹریشن ایکٹ آیا جس کے بعد وہاں پر قتل عام کیا گیا اس کے علاوہ کراچی میں بھی لسانی نفرت کی بنیاد پر ہزاروں لوگ مارے گئے، جب بھی نفرتوں پر کوئی نظریہ پروان چڑھتا ہے تو اس کا نتیجہ خون خرابے کی صورت میں نکلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، مشکل وقت ضرور ہے، سب سے زیادہ مشکلات مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کو ہیں، وہ پہلے بھی یہ مصائب سہہ رہے تھے اب بھی سہہ لیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر وفود بھجوا کر چن چن کر دنیا کو آگاہ کریں گے، مودی جہاں بھارت کو لے کر گیا ہے وہ اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا ، انتہا پسندی کا جن بھارت میں بوتل سے نکل چکا ہے اگر وہ آگے جائے گا تو اسے مزاحمت ملے گی اور اگر اس سے پیچھے ہٹے گا تو انتہا پسند سوچ اسے ہٹنے نہیں دے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں سے وعدہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو ہر فورم پر تیزی سے اٹھائیں گے، دنیا کو باور کرائیں گے کہ 80 لاکھ کشمیریوں کے لیے ان کی سرزمین کھلی جیل بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے جب جرمن چانسلر انجیلینا میرکل سے بات کی تو انہیں اس کی سمجھ نہیں آئی لیکن انہوں نے دہلی ایئرپورٹ پر جا کر بات کی، کینیڈا کے وزیراعظم کو کہا کہ اس فلسفے پر نظر رکھیں ہمارا کام دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی جانب سے 11دنوں میں پاکستان فتح کرنے کی بات کوئی ذی شعور آدمی نہیں کر سکتا جب دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہوں، یہ بیان صرف ہندوتوا کی بنیاد کو خوش کرنے کے لیے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف یہ بیان دیتا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کہے تو ایک اشارے پر آزاد کشمیر کو فتح کر سکتے ہیں، یہ بیانات گھبرائے ہوئے لوگوں کے ہیں، وہ بری طرح پھنس چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اے جے کے قانون ساز اسمبلی اور لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کسی صورت بھٹکنا نہیں، بھارت پاکستان سے دہشتگردی کے الزامات کو بنیاد بنا کر کشمیریوں پر مزید ظلم کرے گا، اس وقت وہ اس لیے ایسا نہیں کر سکتا کہ دنیا کی نظریں اس پر ہیں، کشمیر میں ڈیموگرافی کی تبدیلی سے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا اسے موقع نہیں دینا جبکہ وہ آزاد کشمیر میں جعلی فلیگ آپریشن کی حماقت بھی کر سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سیاسی، سفارتی اور میڈیا کے اندر عالمی سطح پر پہلی بار رجحان پاکستان کی طرف ہے، اس سے پہلے دھماکے کرواکر اسے اسلامی دہشتگردی کے ساتھ جوڑا جاتا تھا، بدقسمتی سے کسی بھی رہنماءنے اس کی وضاحت نہیں کی، دنیا نے غیر مسلموں کی جانب سے ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کو ان کے مذہب سے نہیں جوڑا گیا لیکن مسلمانوں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کر کے دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا گیا، دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 9/11 کے بعد دہشتگردی کے نام پر ہر جگہ مسلمانوں پر تشدد کیا گیا، ہم اس تحریک کو سیاسی، سفارتی اور میڈیا کی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیری رہنماﺅں سے کہا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر ٹھوس تجاویز کے ساتھ ہمارے پاس آئیں، ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو آپ کے ساتھ مشاورت کے بعد مستقبل میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے آئندہ مراحل کا تعین کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد اس کا فالواپ نہیں ہو سکتا بدقسمتی سے اس کے بعد اسلام آباد میں ایک دھرنا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے ایک ماہ کشمیر کا ایشو بیک پر چلا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 600 یورپی یونین پارلیمنٹ کے ممبران نے قرارداد پیش کی، امریکہ کے 150ممبران پارلیمنٹ نے اس پر بات کی ہے، یہ ہماری طاقت ہے، ہم پوری منصوبہ بندی سے کشمیر میں مظالم کو دنیا کے سامنے رکھیں گے، اس سلسلے میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن ہماری طاقت ہیں، جس طرح سے یہ تارکین وطن اب کشمیر میں ہونے والے مظالم پر باہر نکلے ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، ہم انہیں متحرک کریں گے کہ وہ اپنے حلقوں کے اراکین پارلیمنٹ کو کشمیر پر ہونے والے مظالم کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنماﺅں سے بات چیت کے دوران بہت اچھی تجاویز آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کا مودی کا اقدام کشمیر کی آزادی کا راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں