47

چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ چار پاکستانی طلباء کی صحت بہتر ہو رہی ہے ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ چار پاکستانی طلباء کی صحت بہتر ہو رہی ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی مرتب کر لی گئی ہے تاکہ چین سے آنے والے مسافروں کی مناسب سکریننگ اور نگرانی کو موثر بنایا جا سکے ، ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے تمام عالمی ایڈوائزری کی بھرپور پاسداری کرینگے ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان آنے سے قبل14دن آبزویشن کے بغیر کوئی پاکستان نہ آئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے بہت تشویش پائی جاتی ہے اور گذشتہ 3، 4دن میں چین کے شہر ووہان میں تیزی سے وباء پھیلی ہے اور 200سے 300کیسز روز آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 11ہزار947افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 249افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے علاوہ 27ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور یہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات سے آٹھ ممالک نے اپنے شہریوں کا انخلا کیا ہے لیکن چین نے اس عمل کی خوشی سے اجازت نہیں دی، عالمی ادارہ صحت کی ایڈوائزری میں بھی یہ تشویش بڑھ گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ووہان سے لوگوں کا انخلا نہ کیا جائے کیونکہ اس سے وباء کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چینی کی حکومت ، پاکستان میں چینی سفارت خانہ اور چین میں پاکستانی سفارتخانہ سے رابطے میں ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات اور طویل گفتگو ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ووہان کے علاوہ چین کے دیگر علاقوں میں اس وقت تمام پاکستانی محفوظ ہیں اور چینی حکام انکی ہر ممکن دیکھ بھال کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام تک کٹس وصول ہو جائیں گی اور سکرینگ کے عمل سے حاصل ہونے والے نمونہ جات کی تصدیق کا عمل شروع ہو جائیگا، بہت سے نمونے بیرون ممالک بھی بھجوائے گئے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ایک مکمل منصوبہ بندی مرتب کر لی گی تاکہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی آمد کے موقع پر انکی مکمل سکریننگ ٹیسٹ کئے جا سکیں۔ اس ضمن میں وزارت خارجہ ، محکمہ ہوا بازی ، وزارت داخلہ ، وزارت اطلاعات و نشریات اور دیگر تمام متعلقہ ادارے ایک پیج پر ہیں اور لائحہ عمل پر مکمل عملدرآمد کیا جا ئے گا۔ بیجنگ میں پاکستانی سفیر اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ کوئی پاکستانی مشکل میں نہ ہو ، الیکٹرانک میڈیا پر بھی آگاہی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں اور پبلک سروس میسجیز کے ذریعے عوام الناس کو آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی مریض کرونا وائرس سے متاثرہ نہیں ہے ۔ 14دن انکیوبیشن پیریڈ چین کے علاوہ دیگر عالمی اداروں نے بھی ایڈوائز کیا ہے اور اس بات کا ہم نے بھی فیصلہ کیا کہ کسی بھی پاکستانی کو 14دن کی آبزویشن کے بغیر پاکستان نہیں لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اس صورتحال سے تشویش ہے اور وہ فکر مند ہیں اس لیے انہیں بھی لمحہ با لمحہ صورتحال سے آگاہ کر رہیں اور انکی ہدایات کی روشنی میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھی اس منصوبہ بند میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے وزراء اعلیٰ سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کے اقدامات بھی تسلی بخش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین ، علاج معالجہ اور دیکھ بھال کیلئے اسلام آباد ، کراچی اور لاہور میں تین مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان مراکز کی تعداد بڑھا دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پولیو کے حوالے سے اقدامات کی بدولت ویکسین سے انکار کی تعداد کئی گنا کم ہوگئی ہے اور اس سال صرف 2لاکھ 30ہزار ریفیوزل کیسسز سامنے آئے ہیں ۔ رواں سال کے آخری چھ ماہ میں پولیو وائرس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں