ایرانی 106

ایرانی سپریم لیڈر کا حج کے اجتماع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور اور امریکا کی تلملاہٹ کی وجہ بھی بتادی

ایرانی سپریم لیڈر کا حج کے اجتماع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور اور امریکا کی تلملاہٹ کی وجہ بھی بتادی

اایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہےکہ دنیا کو اسلامی جمہوری نظام کے رول ماڈل سے روشناس کرانے کے لیے حج کے عظیم اجتماع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

پیرکی صبح محکمہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا اسلامی جمہوری نظام کے رول ماڈل سے آشنا نہیں ہے اور اس کے مقابلے میں لاکھوں ابلاغیاتی ذرائع اس نظام کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی اور ایرانی عوام کی جانب سے اس کی دھمکیوں کے سامنے ڈٹ جانے کے معاملے کو بھی حج کے موقع پردنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش پر زور دیا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک سیاسی، عقیدتی اور اجتماعی تحریک کے طور پر حج کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بہت سے ممالک حج کی اہمیت اور اس کلیدی کردار سے غافل ہیں حالانکہ حج ایک ٹھوس اور بین الاقوامی تحریک کا پیش خیمہ ہے اور اس سے امت مسلمہ کے لیے بیش بہا فوائد کی توقع کی جاسکتی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امت واحدہ کے قیام کو روکنے کے لیے کی جانے والی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم امہ سے حقیقی مراد ایک ایسا مضبوط اتحاد ہے جو مشترکہ اہداف اور عزم کے ساتھ قدم آگے بڑھائے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہاکہ ایسا اتحاد اب تک قائم نہیں ہوسکا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت کے خیر خواہوں اور درد مند لوگوں کی دعوت اتحاد کے مقابلے میں اسلامی ملکوں میں الزام تراشیوں، اختلافات اور جنگوں کا رواج ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکیوں کی اس بات کا مطلب کہ، ایران کو ایک عام ملک میں تبدیل ہوجانا چاہیے، یہ ہے کہ ایران اسلامی اور دینی نظریات اور عوامی رائے کی بنیاد پر معاشرے کے انتظام و انصرام کے جدید نظریے سے دستبردار ہوجائے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی تعلیمات، اساس اور اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت جیسے اس کے مظاہر کی تشریح کو دنیا کے لیے پرکشش قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایرانی عوام سے امریکہ کی تلملاہٹ کی وجہ وہ کشش ہے جو بدمعاشوں کے سرغنہ کے مقابلے میں ایک خود مختار نظام کے ڈٹ جانے کے نتیجے میں دنیا والوں کے ذہنوں کو اپنی جانب کھینچ لیا ۔