ایل او سی 53

ایل او سی پر ”پیشگی حملے“سے متعلق بھارتی آرمی چیف کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کردیا

پاکستان نے آذاد جموں وکشمیر میں ایل او سی پر ”پیشگی حملے“سے متعلق بھارتی آرمی چیف لیفٹننٹ جنرل منوج مکھنڈکے غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کو بالا کوٹ میں مہم جوئی پر پاکستان کی منہ توڑ جوابی کارروائی کو نہیں بھولنا چاہیئے۔پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ،پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن ،سلامتی اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہیگا۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ 2019ءمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب رہی، چین، ترکی، سعودی عرب اور امریکہ سمیت بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی گئی، وزیر اعظم عمران خان نے 5 اگست کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے بعد دنیا بھر میں بھارت کی ہندو توا پالیسی کو بے نقاب کیا جبکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر بھر پور طریقے سے اجاگر کیا،ہمارے دنیا بھر میں بہت سے ترقیاتی شراکت دار ہیں، امریکہ طالبان مذاکرات میں پاکستان سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نئے سال کی پہلی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے سال نو کی پہلی بریفنگ پر سب کو مبارک دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ نیا سال ہم سب کیلئے بہتری لائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ 2019ءمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب رہی، چین، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی جبکہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات بہتر ہوئے، اسی طرح ملائشین و افغان صدور، برطانوی شاہی جوڑے ، سعودی اور یو اے ای کے ولی عہد پاکستان آئے، اس دوران پاکستان نے نومبر میں کرتار پور راہداری بھی کھولی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے بھارتی غیر قانونی اقدام کے بعد وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان نے دنیا بھر میں بھارت کی ہندو توا پالیسی کو بے نقاب کیا، وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا جبکہ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سات خطوط لکھے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر پر مکمل حمایت کرتے ہوئے 5 اگست کے بعد او آئی سی کے دو اجلاس منعقد کیے،کشمیر کے حوالے سے او آئی سی وزارائے خارجہ کے اجلاس پر کام ہو رہا ہے جو اپریل میں پاکستان میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات پر ہماری قیادت نے کشمیریوں کی تکالیف کو اجاگر کیا، بھارت میں جاری ہندتوا نظریے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ عالمی برادری ہندتوا کے باعث خطے کو درپیش امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے آگاہ ہو چکی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اب تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل کو7 خطوط لکھے ہیں۔ ستمبر میں او آئی سی کانٹکٹ گروپ نے کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ امریکی ایوان ہائے نمائندگان میں دو قراردادوں کے مسودے پیش کیے گئے۔ عائشہ فاروقی نے کہا کہ آج جموں و کشمیر میں انسانی المیہ 151ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کشمیر میں انٹرنیٹ کھولنے، محاصرہ اٹھانے، جبری گمشدہ نوجوانوں کی رہائی اور سول سوسائٹی اراکین کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی ہدایت پر ایک خصوصی طیارہ ملائشیا میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے روانہ کیا گیا، پاک چین تجارت کا دوسرا مرحلہ گزشتہ روز فعال کر دیا گیا، اس کے علاوہ ادائیگیوں میں توازن کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ طالبان مذاکرات میں پاکستان سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، ہمارے دنیا بھر میں بہت سے ترقیاتی شراکت دار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط میں تفصیلی طور پر ایل او سی پر بڑھتے بھارتی خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کو بڑھتے خطرات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ گزشتہ روز کابل میں ایک پاکستانی کے اغوا کا معاملہ کابل میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ یکم جنوری کو ہر برس پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیون کی فہرستوں کا تبادلہ ہوتا ہے، ان فہرستوں کے مطابق 267 پاکستانی بھارتی جیلوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات کوسنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں