isb 25 54

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

اسلام آبادوزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ قانون اور آئین کی بالادستی اور اداروں کی مضبوطی کا عزم دہرایا، ایمرجنسی اور زندگی کو لاحق خطرہ کی تشخیص ماہرین صحت نے کرنی ہے، محمد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے عدالت جو بھی فیصلہ کریگی حکومت اس پر من و عن عملدآرمد کریگی،کوئی بھی فیصلہ کسی شخصیت کی خواہشات کے تابع نہیں ہوگا، گزشتہ 72 سال کے دوران اداروں کو کمزور اور تابع رکھا گیا ،نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 20ہزار تک آگئے ہیں، ہر آنے والے دن اس میں بہتری آئے گی، صحت مند نواز شریف ہی ہم سب کے لئے اہم ہیں، اب مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی بیماری کی آڑ میں حکومت پر تنقید کی بجائے کوئی اور زریعہ تلاش کرے ۔وہ جمعرات کو ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی کے ہمراہ پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان بیت المال دکھی انسانیت کو تحفظ دینے کا اہم ادارہ ہے،وزیراعظم نے بیت المال کا دائرہ احساس پروگرام تک وسیع کیا، وزیراعظم عوامی مفاد کے راستے میں رکاوٹیں دور کررہے ہیں،اصلاحات پروگرام کے تحت پاکستان بیت المال میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں جنگیں سرحدوں پر نہیں بلکہ معاشی میدان میں لڑی جارہی ہیں،ملکی ترقی کیلئے خواتین کو با اختیار بنانا نا گزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے متعلق عدالتوں میں درخواستیں آئی ہیں ،فیصلہ بھی عدالتیں کریں گی، پہلے بھی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل کیا ہے، اب بھی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی بیماری پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، مریم نواز نے والد سے ملاقات کی درخواست کی تھی جو پوری کردی گئی، میاں صاحب کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نئے پاکستان میں تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تمام ہسپتالوں میں زیر علاج ہر مریض نواز شریف ہے، مریضوں میں بھی تفریق ختم ہونی چاہیے، تمام جیلوں کی انتظامیہ سے گذارش ہے کہ وہ ایسے تمام مریضوں کی فہرستیں شیئر کریں جو جیل میں قید کاٹتے ہوئے مہلک بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں،شخصیات اور انسانیت میں فرق ختم کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ عمران خان کے خلاف اپوزیشن کیچڑ اچھالے اور اس کے باوجود حکومت ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ،اینٹ کا جواب پتھر سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس عوام کی خدمت ،ریلیف کی فراہمی ،تعمیر و ترقی کے میگا پراجیکٹس موجود ہیں اس لئے جن کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے وہ بیماری پر سیاست کر رہے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب کو فون کر کے ہدایات دی ہیں کہ نواز شریف کو صحت کی اچھی سہولیات فراہم کی جائیں ،شریف فیملی کو اعتماد میں لیکر ملک کے جس ہسپتال میں علاج کے لئے جانا چاہیں جائیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن مریم نواز کے حوالے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ بیماری کے باوجود انھیں دوبارہ جیل بھجوا دیا گیا ہے، اب دو آپشن ہیں کہ ہم ڈاکٹر کی ایڈوائس پر عمل کریں یا پارٹی ترجمانوں کی سنیں ، ان کے لئے حقائق پیش کر رہے ہیں کہ مریم نواز کی ای سی جی ،بلڈ پریشر سمیت تمام ٹیسٹوں کے نتائج نارمل آئے ہیں اسکے بعد مریم کو ہسپتال سے جیل ہی منتقل کر نا تھا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان میڈیا مالکان سے ملاقاتیں کررہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ پی بی اے سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز سے بھی وزیراعظم مل رہے ہیں تا کہ میڈیا کے شعبے میں بحران سے نمٹنے اور صحافیوں کی نوکریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اتنے مسائل ہیں ،27 اکتوبر یوم سیاہ بلکل قریب ہے ، قومی سلامتی سے جڑے چیلنجز کے علاوہ قوم کو داخلی اور خارجی محاذ پر بہت کچھ کرنا ہے ،حکومت کے ساتھ عوام کی بہت توقعات ہیں ، وزیراعظم عمران خان عوام کی خدمت کے لئے 18گھنٹے کام کر رہے ہیں ۔ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ پاکستان بیت المال میں خواتین کو ہنر مند بنانے کیلئے قائم سنٹرز کی استعداد بڑھارہے ہیں،ہر سال 28ہزار خواتین کو ہنر مند بنا نے کیلئے مختلف کورسز کرائے جائینگے، آئندہ سال مزید 100خواتین سنٹرز قائم کرنے جارہے ہیں، 2023تک ملک بھر میں 350خواتین سینٹرز قائم کیے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے فنڈ کے تحت ہر خاتون کو 20ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا قرض دیا جائیگا،گلگت بلتستان کے ہر ضلع میں خواتین کو بااختیار بنانے کا سنٹر بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار بیت المال کے تحت اسلام آباد میں یتیم بچیوں کا سنٹر بنانے جارہے ہیں، سنٹر میں 100یتیم بچیوں کی رہائش ،تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائیگا، بزرگ شہریوں کی کفالت کیلئے بھی ”اولڈ پیپل ہوم”قائم کررہے ہیں، ملک کے ہر بڑے شہر میں ایک کمیونٹی سنٹر بھی بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ سماعت اور قوت گویائی سے محروم بچوں کے آپریشن کیلئے15کروڑ روپے کے عطیات ملے،احساس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں سماعت ،قوت گویائی سے محروم200بچوں کے آپریشن ہونگے، ایک آپریشن پر تقریباً12لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے ہر ضلع میں خواتین کو بااختیار بنانے کا سنٹر بنایا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں