78

مسلسل 23ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری

مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم مسلح افراد نے ضلع پلوامہ میں ایک شخص کو گولی مارکر قتل کردیا ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال سے عبدالقدیر کوہلی اور منظور احمد کو اغوا کیا تھا۔بعدازاں گولیوں سے چھلنی عبدالقدیر کی لاش تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران برآمد ہوئی ہے ۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 23 ویں روز بھی کرفیو اور دیگر سخت پابندیاں جاری ہیں اور کشمیریوں کو وادی کشمیر میں بدترین معاشی نقصانات سمیت شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے ۔ مسلسل 23 ویں روز بھی بازار اور سکول بند رہنے کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں اور لوگوں کو خوراک اور جان بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اور وادی کشمیر شدید انسانی بحران کا منظر پیش کررہی ہے۔لاکھوں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور جموں وکشمیر ایک جیل کا منظر پیش کر رہا ہے ۔قابض انتظامیہ نے 5 اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی کشمیر اور جموں خطے کے ڈوڈہ ، کشتواڑ، پونچھ، رام بن اور راجوری اضلاع میں ٹیلیفون ، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع اور ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کردی تھیں جو مسلسل جاری ہیں۔ مقامی اخبارات پر بھی قدغن جاری ہیں ۔ مقبوضہ علاقے کے طول و عرض میں لاکھوں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جو لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت رہنماﺅں کو گھروں اور جیلوں میں نظر بند رکھاہے۔ سینکڑوں سیاسی رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قابض انتظامیہ نے جیلوں اور پولیس سٹیشنوں میں مزید لوگوں کے لیے گنجائش نہ ہونے کے باعث عارضی حراستی مراکز قائم کئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں