black day 34

نیشنل پریس کلب کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا

اسلام آباد: اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطین کے علاقے غزہ میں قائم الجزیرہ اور انٹرنیشنل نیوز ایجنسی اے پی سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز پر میزائل حملوں اورعمارت کو تباہ کرنے کیخلاف نیشنل پریس کلب کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا، اس موقع پر این پی سی میں سیاہ پرچم لہرائے گئے اور فلسطین کے حق اور اسرائیل کیخلاف زبردست نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر خطاب کرنے ہوئے پاکستان کے نامور صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا کہ اب ہمیں زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے، اور پوری امت مسلمہ کو اسرائیل کیساتھ اپنے سفارت تعلقات منقطح کرنا چاہیئں اور اسکی ابتداء ترکی کو کرنا چاہیئے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا وہ سب سے پہلا اسلامی ملک ہے، الجلاہ ٹاور میں صرف الجزیرہ اور اے پی کے ہی دفاتر نہیں تھے بلکہ انکے علاوہ بھی تقریبأ ساتھ کے قریب میڈیا ہاؤسز اور پروڈکشن ہاؤسز تھے جنہیں پلک جھپکتے ہی اسرائیلی فورسز نے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ نے کہا کہ اسرائیلی بربریت کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے کیلئے پاکستانی صحافیوں کو غزہ جاکر اصل حقائق دنیا تک پہنچانے چاہیئں اور اس حوالے سے ویزہ اور دیگر مسائل کے حل کیلِئے این پی سی کے صدر خواہشمند صحافیوں کی مدد کریں، صدر این پی سی نے کہا کہ وہ صحافیوں کو غزہ جانے میں درپیش مسائل کے حل متعلقہ حکام سے بات کریں گے، پاکستانی حکومت کے کل کے رویئے سے لگتا ہے کہ فلسطین کی بجائے اسرائیل کیساتھ کھڑی ہے، سیکرٹری این پی سی انور کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا اسرائیلی مظالم کو دنیا تک پہنچاتا رہے گا، سینئر اینکر اور صحافی سید فہد حسین نے کہا کہ پاکستانی صحافیوں کا غزہ جا کر رپورٹنگ کرنے آسان کام نہیں ہے، پاکستانی حکومت کو مصر اور اردن کی حکومتوں سے پاکستانی صحافیوں اور امدادی اور رفاحی تنظیموں کی فلسطین میں محفوظ آمد کو یقینی بنانے کیلئے بات کرنی چاہیئے۔ ترکی آج بھی اسرائیل کیساتھ تجارت کرنے والا بڑا ملک ہے لہذاٰ ہمیں دوغلی پالیسی کے بجائے کھل کر اسرائیل کے خلاف اقدامات اٹھانے ہونگے، خبیب فاؤنڈیشن کے چیئرمین ندیم احمد خان نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان سے امدادی سامان لیکر فلسطین جائینگے اور اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریںگے۔ سینئر صحافی فوزیہ شاہد کا کہنا تھا کہ کل کے او آئی سی اجلاس کے بعد اعلامیہ انتہائی مایوس کن تھا جس میں کوئی ٹھوس موقف اپنانے کے بجائے صرف جنگ بندی کی اپیل پر ہی اکتفا کیا گیا، اس موقع پرتاجر راہنماء کاشف چوہدری نے کہا کہ اسرائیلی معیشت کو تباہ کرنے کیلئے امت مسلمہ کو اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے کیونکہ اسرائیل اپنی مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدن کو مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ماہرہ عمران نے کہا کہ او آئی سی کی جانب سے صرف روایتی مذمتی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے امت مسلمہ کو اسرائیل کیخلاف دو ٹوک موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ این پی سی میں ہونے والی اس تقریب میں جڑواں شہروں کے صحافیوں، سول سوسائٹی سمیت دیگر تنظیموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔