United Kingdom 58

خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس

مظفرآباد:”خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان، برطانیہ اور آسٹریلیا کے پارلیمنٹرین، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور کشمیری کمیونٹی کے رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حقوق کی بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں پامالی اور خواتین کو جنسی تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ خواتین کی جان اور ان کے سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی صدارت میں ہونے والی اس کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر حملے، انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کے حقوق پامال کرنے کے واقعات کی حالیہ انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2001 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں 675 خواتین کو قابض بھارتی فوج نے گولی مار کر شہید کیا جبکہ بائیس ہزار نو سو چالیس خواتین کے شوہروں کو شہید کر کے انہیں بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ گیارہ ہزار سے زیادہ خواتین کو بھارتی قابض فوجیوں نے زبردستی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جن میں اٹھاسی وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں کنن پوش پورہ میں 1991 میں بھارتی فوج کے ایک ہزار سے زیادہ سپاہیوں نے گاؤں کا محاصرہ کر کے مردوں کو قتل کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان رونگٹے کھڑے کر دینے والے اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد اس بات کو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کو کن حالات کا سامنا ہے ، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ ریاست میں خواتین کو ایک جانب براہ راست بھارتی فوج کے حملوں کا سامنا ہے اور دوسری جانب بھارتی فوج کے نام نہاد سرچ اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران گھروں کے اندر خواتین کی توہین کرنے کے علاوہ انہیں جنسی ہرا سگی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کے شوہروں، بچوں اور بہن بھائیوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کی اکثریت ذہنی امراض کا شکار ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اگست 2019 کے بعد تیرہ ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر اور شمالی بھارت کی مختلف جیلوں اور حراستی کیمپوں میں قید رکھا گیا ہے جن کی ماؤں اور بہنوں کو ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔ اپنے جگر گوشوں کی جدائی میں ماؤں اور اپنے بھائیوں کی جبری گمشدگی کے صدمے سے دوچار بہنوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قبضہ سے جنم لینے والے انسانی المیہ میں وہاں کی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں اس لیے یہ نہایت ضرورت ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کشمیری خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہا کہ بھاتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور ان اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ خواتین اور بچوں کو اپنی وحشت اور درندگی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی ان بد ترین خلاف ورزی کے باوجود بین الاقوامی طاقتوں خاص طور پر اقوام متحدہ کا بھارت پر دباؤ نہ ڈالنا ان کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر رہا ہے کانفرنس سے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں قائم کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی چیئر پرسن اور ممبر پارلیمنٹ ڈیبی ابراہام، برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان، آسٹریلیا کی سابق سنیٹر لی ریانن، انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر ڈینل خان، آزاد کشمیر کے سینئر قانون دان راجہ راحت فاروق ایڈووکیٹ، ممتاز خاتون کشمیری رہنماء شائستہ صفی، تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، یحیٰ اختر، مزمل ایوب ٹھوکر مس ریحانہ علی اور دیگر مقرر ین نے بھی خطاب کیا۔