President 59

پاکستان پراڈکٹس کی ویلیو ایڈیشن اور پراسسنگ سہولیات بہتر بناکر عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتا ہے صدر مملکت

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی پراڈکٹس کی ویلیو ایڈیشن اور پراسسنگ سہولیات بہتر بناکر عالمی منڈی میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ بیرون ملک سفارتخانے تجارتی نما ئشیں منعقد کرکے ملکی معیشت کے لئے کرداار ادا کریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایوان صدر میں وزارت تجارت اور سرگودہا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام ترشاوہ پھلوں کی نما ئش (سایٹرس شو2021 )سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں ایسی تحقیق کی ضرورت ہے جو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہو صدر نے کہا پاکستان ایک زرعی ملک ہے کینو اور دیگر پھلوں کی پیکنگ اور سٹوریج سہولیات بہتر بنا کر برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں میعاری زرعی ادویات اور بہتر دیکھ بھال کے ذریعہ ہم زرعی معشیت میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کے لیے یونیورسٹیوں میں مارکیٹ قابل اطلاق تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے
انہوں نے کہا کہ ہمیں نامیاتی فارمنگ اور زرعی ادویات سے آ گاہ رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ زراعت کے لیے یہ چیزیں اہمیت کی حامل ہیں انہوں نے کہ ایسے وہ تمام عوامل جو آرگینک فارمنگ یا محفوظ کاشتکاری کو فروغ دیتے ہوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو خوراک میں خود کفیل ہیں سٹریٹجک طور بہت محفوظ ہیں صدر نے کہا ترقی یافتہ ممالک نے بہت پہلے اپنے لیے ایک ایسا نظام اختیار کر لیا تھا جس سے و وہ ایک دوسرے کی مددکررہے ہیں اور آ پس میں تجارت کررہے ہیں ہے تیس چالیس سا ل قبل یہ امر قابل اطمینان تھا مگر ا باد ی میں اضافہ کے ساتھ پانی کی قلت ہوئی۔ ہمیں پانی کے تحفظ کے ساتھ حیاتیاتی تنوع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
انہوں نے کہا کی زراعت کا جی ڈی پی میں 22فیصد حصہ ہے جس سے تقریبا 42 فیصد لیبر وابستہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر چہ فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے تاہم گندم اور کپاس کی پیداوار میں کمی آرہی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں 1.5فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہیں مگر اس کی فی ایکٹر پیداوار بہت زیادہ ہے اور اس کی لیبر صنعت کی طرف منتقل ہوئی ہے ۔روس اور دیگر ممالک میں بھی افرادی قوت صنعت کی جانب گئی تاہم ان ممالک نے زرعی مشینری کے ساتھ اپنی فی ایکٹر پیداور میں اضافہ کیا اور اب انڈسٹری سے لیبر اور سکلڈ لیبر ا ئی ٹی کی جانب جارہی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اس سلسلہ میں تیاری رکھنی چاہیے
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کی پیداور تین تا چار فیصد ہے اور دنیا میں کینو پیدا کرنے والا چھٹا بڑا ملک ہے انہوں نے کہا کہ پھلوں اور گندم سمیت زرعی اجناس کو محفوظ بنا کر ہم اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیں صدر نے کہا کہ گندم کو کیڑوں سے محفوظ نہ بنانے اور مچھلی کے تحففظ کے لئے کولڈ سٹوریج کی کمی سے ان کی اصل قدر برقرار نہیں رہتی انہوں نے کہا میں نے اپنے حالیہ دورہ گلگت اور ہنزہ کے دوران یہ جائزہ لیا کہ موزوں اقدامات نہ ہونے سے خوبانی سمیت مختف اجناس کی پیداور اور برآمد متاثر ہوئی دنیا بھر میں اپنائے گئے سخت برآمدی معیارات سے بھی برآمدات میں کمی ہوئی اور خود کو بدلتے ہوئے نظام کے ساتھ ڈھالنے سے اس صورتحال میں بہتری ا ئے گی انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترشاوہ پھلوں کینو اور آم کی بہتر ٹریٹمنٹ کے ساتھ برآمدات میں اضافہ کیا جائے ۔
صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بیرون ملک سفارتخانے بالخصوص کینو ، آم ، خوبانی جیسے پھلوں کی نمائشیں منعقد کر کے ملک کے پھلوں کو متعارف کرانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے بحیثیت صدر پاکستان دنیا بھر کے رہنمائوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت آموں کا تحفہ بھیجا جو پاکستان کے پھلوں کا بادشاہ ہے ،تقریب کے اختتام پر صدر نے نمائش کے مختلف سٹالز کا جائزہ لیا جہاں مختلف اقسام کے کینو اور ترشاوہ پھل رکھے گئے تھے ۔
انہوں نے نمائش کے بہترین انعقاد پر سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی کوششوں کو سراہا ۔ قبل ازیں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی چوبیس ہزار ایکڑ زمین ترشاوہ پھل پیدا کر رہی ہے اور اس سال اس کی پیداوار 2.3 ملین ٹن رہی ۔ انہوں نے کہاکہ پھلوں کے تحفظ اور انہیں خراب ہونے سے بچانے کے لئے پری شپ منٹ معائنہ کے لئے ایک مئوثر فائیٹو سینیٹیشن سسٹم کی ضرورت ہے ۔ سیکرٹری تجارت محمد صالح احمد فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کے لئے ایک سٹرٹیجی پر کام کر رہی ہے جس کے سربراہ وزیراعظم ہوں گے ۔سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سرگودھا اپنے ترشاوہ پھلوں کے باغات کے باعث پاکستان کا کلی فورنیا کہلاتا ہے جہاں 160سے زائد پراسیسنگ یونٹس ہیں ۔ انہوں نے فری ٹریڈ ایگریمنٹس اور شہر میں ڈرائی پورٹ کے قیام کے ساتھ ترشاوہ پھلوں کی بڑی منڈی میں رسائی کی تجویز پیش کی ۔واضح رہے پاکستان2.3 ملین ٹن پیداوار کے ساتھ سالانہ تقریباً0.44ملین ٹن ترشاوہ پھل برآمد کرتا ہے جس کی مالیت تقریباً 166 ملین ڈالر ہے ،
پاکستان میں 30 سے زائد اقسام کے ترشاوہ پھل پیدا ہوتے ہیں اور پھلوں کی مجموعی پیداوار میں30 فیصد ترشاوہ پھل شامل ہیں۔ پاکستان کے ترشاوہ پھل 30 سے زائد ممالک کو برآمد کئے جاتے ہیں ۔