pm pakistan 82

پاکستان میں زمین اور سوچ دونوں میں تبدیلی لا رہے ہیں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں زمین اور سوچ دونوں میں تبدیلی لا رہے ہیں، گزشتہ کئی برسوں میں لاہور میں 70 فیصد درخت کاٹ دیئے گئے، دس ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا ہے ، شجرکاری آنیوالی نسلوں کیلئے ضروری ہے، آئندہ نسلوں کیلئے ضروری ہے، اپنا طرز زندگی بدلیں۔ 10 ارب درختوں کے سونامی کے تحت موسم بہار کی شجرکاری مہم 2021 اور پہلے میواکی شہری جنگل کا آغاز کر نے کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظمنے کہا کہ ہم پاکستان میں زمین اور سوچ میں ایک تبدیلی لیکر آرہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا طرز زندگی تبدیل کریں اور سوچیں کہ آج جو ہم اپنے ملک سے کر رہے ہیں اسے ہماری آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا یا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو آج آپ کر رہے ہیں اس کے اللہ کی دی ہوئی زمین پر کیا اثرات آئیں گے اس کا سوچیں، ہم نے گزشتہ 70 سال میں نہ اپنی آخرت کی فکر کی اور نہ یہ سوچا یہ جس بے دردی سے ہم اپنے درخت کاٹ رہے ہیں، جنگلات ختم کر رہے ہیں اس کا آنے والی نسلوں پر کیا نقصان ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان لاہور میں واضح ہے، میں لاہور میں بڑا ہوا، اس شہر کو اور پشاور کو باغوں کا شہر کہتے تھے لیکن آج جو وہاں آلودگی ہے وہ ہمارے اور بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق آج لاہور میں، کراچی میں اور اس کے بعد پشاور میں جو آلودگی ہے اس سے انسان کی زندگی اوسطا 11 سال کم ہوتی ہے، خاص طور پر اس کے بچوں اور بزرگوں پر برے اثرات ہیں۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا آلودگی کی وجہ ہے کہ گزشتہ 20 سال میں لاہور کے 70 فیصد درخت کاٹ دیے گئے اور شہر سیمنٹ کا جنگل بن گیا جس کے اثرات تو آنے تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے لاہور میں 50 مقامات ڈھونڈے ہیں جہاں یہ میاں واکی جنگل لگائے جائیں گے کیونکہ یہ ایسا جنگل ہے جو بہت تیزی سے اگتا ہے اور آج اس کا اسلام آباد میں آغاز کیا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا یہ جنگل دوسرے جنگل کے 30 سال کے مقابلے میں 10 سال میں اگ جاتا ہے اور یہ آکسیجن بھی زیادہ فراہم کرتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں یہ پہلی جگہ کا انتخاب کیا ہے اس کے علاوہ یہاں 20 مزید مقامات پر اسی طرح کا جنگل اگایا جائے گا۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آپ کے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے، اللہ نے جو پاکستان دیا ہے یہ بہت بڑا تحفہ ہے، زیادہ تر لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ اللہ نے کس طرح کی نعمتیں بخشی ہیں، میں وہ خوش قسمت پاکستانی ہوں جس نے پاکستان سمیت دنیا دیکھی ہوئی ہے اور میں اپنے تجربے سے کہتا ہوں کہ یہ ملک اللہ کا تحفہ ہے لیکن ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آپ کے ساتھ مل کر پورے پاکستان کو سبز پاکستان بنا دے گی، اس میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت ایک ماحول بنا سکتی اور فنڈنگ کرسکتی لیکن اصل میں ایک قوم اپنے مستقبل کو ٹھیک کرتی ہے۔ دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ہم ابھی فیصلہ کر رہے ہیں کہ اسکولوں میں ایک خصوصی مضمون دیں تاکہ لوگوں کو اہمیت ہو کہ ملک کو سبز کرنا کتنا ضروری ہے کیونکہ دنیا میں جو موسمیاتی تبدیلی آرہی ہے اور موسم گرم ہورہا ہے اس میں ہم دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہیں جنہیں اس سے زیادہ خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے اور اب ہمارا 10 ارب درخت اگانے کا ہدف ہے، جس کی دنیا تعریف کر رہی ہے اور عالمی اداروں ڈبلیو ڈبلیو ایف نے خیبرپختونخوا میں لگائے گئے ہمارے درختوں کا خود آڈٹ کیا۔ وزیراعظم نے ملک کے نوجوانوں و طلبہ سے اپیل کی کہ آپ نے اپنے مستقبل کو بچانے کے لیے اس میں بھرپور حصہ لینا ہے اور ہم آپ کے ساتھ ملک کر اس ملک کو سبز پاکستان بنا دیں گے۔