Sweet Mazari 53

بچوں کی گمشدگی و تلاش کیلئے زینب الرٹ

اسلام آباد:وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقوق نے گزشتہ سال خواتین ، بچوں ، خواجہ سراوںاور معذوروں کے حقوق کی قانون سازی پر پیشرفت کی ، ہیلپ لائن 1099 ایپ متعارف کرانے کے علاوہ بچوں کی گمشدگی و تلاش کیلئے زینب الرٹ تخلیق کیا،کوویڈ۔ 19 کے دوران پسماندہ طبقات کی رہنمائی اور امداد کے لئے اقدامات اٹھائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام وزارت کی سال 2020 کی کارکردگی رپورٹ کے اجرا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رپورٹ میں خواتین ، بچوں ، معذور افراد ، خواجہ سراوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لئے اٹھائے گئے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ایک خصوصی بریفنگ کے دوران جاری کی گئی رپورٹ میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت منصوبوں میں وزارت کی پیشرفت ، کوویڈ۔19 کی وبائی مرض کے اثرات کو کم کرنے کے لئے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے خصوصی اقدامات اورزیر تبصرہ عرصہ کے دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی مصروفیات کے ابواب بھی شامل ہیں۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ اور ان کے ازالے کیلئے کئے جانیوالے اقدامات اور طریقہ کار کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران وزارت نے نہ صرف قومی ہیلپ لائن 1099 ایپلی کیشن کا اجرا کیا بلکہ لاپتہ بچوں کی رپورٹنگ اور تلاش کیلئے پاکستان سٹیزنز پورٹل پر زینب الرٹ کے نام سے ایک طریقہ کار بھی مہیا کیا ۔انہوں نے بتایا کہ وزارت نے ان اقدامات کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے اینیمیشن ویڈیو تیار اور متعارف کروانے کے علاوہ حال ہی میں انسانی حقوق وسائل پورٹل کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ انکی وزارت نے ملکی آبادی کے پسماندہ طبقات کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی میں پائی جانے والی خامیوں پر قابو پانے کے سلسلے میں بھی اچھی خاصی پیشرفت کی گئی ہے۔ حال ہی میں ، صنفی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے انسداد عصمت دری (انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020 کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح بچوں سے گھروں میں مزدوری لینے کے عمل کو خطرناک کاموں کے زمرے میں شامل کرنے کیلئے بچوں کی ملازمت کی ممانعت کے قانون 1991 کے شیڈول I میں ترمیم بھی اس حوالے سے قانون سازی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ وفاقی وزیر نے گزشتہ سال کے دوران نافذ ہونے والے زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ اوروفاقی دارالحکومت اسلامآباد کی حدود میں معذوروں کے حقوق کے قانون کو بھی ایک اہم پیشرفت قراردیا ہے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پر پسماندہ طبقات پرکوویڈ۔19 کے اثرات کو کم کرنے کے لئے وزارت کی طرف سے کئے گئے خصوصی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت نے ہیلپ لائن 1099 کو اپ گریڈ کیا ، کمزور طبقات کو اس وبائی مرض سے محفوظ رہنے کیآگاہی فراہم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر مہم چلائی گئی۔ کوویڈ۔19 کے پاکستان پر صنفی اثرات اور اس کے مضمرات اور پاکستان میںکوویڈ۔19 اورآفات میںعدم تحفظ ،انسانی حقوق کی بنیاد پر ایک تجزیہ کے موضوع پر تفصیلی رپورٹیں بھی مرتب اور جاری کیں۔