FBR tax 52

ایف بی آر میں اصلاحاتی عمل کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں کو سہولیات دینے، ٹیکس امور میں انسانی عمل دخل کم سے کم کرنے، ٹیکس قوانین اور ٹیکس فائلنگ کے طریقہ کار کو خودکار نظام کے تحت سادہ بنانے، انٹیگریٹی مینجمنٹ، ٹیکس کوڈ کو نافذ کرنے، ریونیو اور برآمدات کو بڑھانے، ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈرابیک کی تیز تر ادائیگی اور بہترین خدمات فراہم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے ہیں۔ایف بی آرکے ترجمان نے یہاں جاری بیان میں کہا کہ ان اقدامات کے بہترنتائج سامنے آئے ہیں۔ مالی سال 21-2020 میں ایف بی آر نے 7 ماہ کے مقررہ ہدف سے زائد وصولی کی۔ ٹیکس کی مد میں وصول کی گئی رقم 2،570 ارب روپے رہی جبکہ اس مدت کا ہدف 2،550 ارب روپے مقرر تھا۔ اس اضافی وصولی کے ساتھ ساتھ ری فنڈز میں بھی گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 80 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو گزشتہ سال 69 ارب روپے رہا تھا جبکہ اس سال 129 ارب روپے رہا ہے۔ اس سے کاروباری برادری کو اپنے کاروباری اخراجات میں کمی لانے اور سرمایہ کاری کے لئے ورکنگ کیپیٹل مہیا کرنے میں مدد ملی۔ ترجمان نے بتایاکہ ٹیکس گزاروں کی شکایات نمٹانے اور انہیں اپنی آراء دینے کا موقع فراہم کرنے کے لئے ایک مخصوص پورٹل بنا دیا گیا ہے۔ بڑے ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے ملتان میں لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس کے لئے ٹیکس دہندگان کے اندراج کے سسٹم (آئی سی ٹی پر مبنی سیلز ٹیکس سروے) نے بھی کام شروع کر دیا ہے ۔ کسٹمز کے حوالے سے درآمد کنندگان/ کسٹمز ایجنٹوں کے لئے بنائی گئی پورٹل وی بوک پر آن لائن امپورٹ ڈیوٹی کیلکولیٹر نے کام شروع کر دیا ہے جس کے ذریعے گڈز ڈیکلریشن جمع کرائے بغیر ڈیوٹی/ ٹیکس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ بااعتماد تجارتی پارٹنرز کے لئے منظور شدہ معاشی پارٹنرر کے پروگرام “اے ای او پروگرام” کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ڈبلیو ٹی او کے تحت تجارتی معاونت کے معاہدے، ٹی ایف اے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ کہ افراد اور ایک کروڑ روپے سے کم ٹرن اوور والے چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کے لئے ایک سادہ انکم ٹیکس گوشوارہ تیار کیا گیا ہے۔ انفرادی ٹیکس گزاروں کے لئے خودکار طریقے سے حساب لگانے اور بعض معلومات کی پری فائلنگ کے پہلے مرحلے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ ای اپیلز ماڈیول کے ذریعے اپیلیں اب آن لائن دائر کی جا سکتی ہیں۔ ایف بی آر کے “فاسٹر” پروگرام کے تحت سیلز ٹیکس ری فنڈ کے خودکار نظام کو مزید بہتر بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح برآمدی ڈیوٹی کی واپسی کے لئے ضابطے کی کارروائی اور ادائیگی کا نظام بھی اب خودکار طریقے سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس کی بنیادکو وسیع کرنے کے لئے ایف بی آر مالی خدمات کے شعبے، ٹیلی مواصلات کمپنیوں، یوٹیلٹی کمپنیوں، صوبائی ریونیو حکام، مقامی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، صوبائی ایکسائز و ٹیکسیشن حکام، مقامی ہاؤسنگ اتھارٹیز، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، نادرا، اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی سے ڈیٹا حاصل کر رہا ہے اور اسے تمام ٹیکس گزاروں کی ہر لحاظ سے مکمل معلومات کی تیاری کے لئے آپس میں ضم کیا جا رہا ہے۔ اب اگر کوئی بھی ٹیکس گزار یہ معلومات حاصل کرنا چاہے کہ ایف بی آر کے پاس اس کے بارے میں کون کون سی معلومات موجود ہیں تو وہ یہ تفصیل ایف بی آر کی مخصوص پورٹل (معلومات ٹیکس رے) سے حاصل کر سکتا ہے۔ قانونی چارہ جوئی، اپیل کرنے کے نظام اور تنازعات کے تصفیہ کے متبادل نظاموں کو بھی مضبوط بنانے کے علاوہ خود کار بنا دیا گیا ہے۔ کسٹمز کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرنے اور اس کے تجزیہ کے لئے انٹی سمگلنگ اور ضبط شدہ اشیاء کی پورٹل نے بھی کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کے انٹیگرٹی مینجمنٹ میکنزم کو بھی مستحکم بنایا گیا ہے۔ ایف بی آر ہیڈ آفس اور فیلڈ دفاتر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ان کی ری سٹرکچرنگ کی گئی ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی پر مراعات اور استثناء کے نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کاروبار کی مزید آسانی کے لئے ٹیکس پالیسی بورڈ کے ساتھ مل کر اسے سادہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے بتایاکہ درآمدی ڈیوٹی کی واپسی کے خودکار نظام کے ذریعے ڈیوٹی ڈرابیک کلیمز کی تعداد میں بھی مثبت بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس خودکار نظام نے دسمبر کے آخر میں کام شروع کیا اور 15 جنوری 2021 تک جمع کرائے جانے والے 75،345 میں سے 55،790 یعنی 74 فیصد کلیمز پر خودکار طریقے سے کارروائی کی گئی جبکہ 71 فیصد رقوم کی ادائیگی کر دی گئی۔