Sardar Masood Khan 8

قدرتی ناگہانی حادثات میں انسانی جانوں اور مادی نقصانات کو کم کرنے کے لیے عوامی آگاہی

مظفرآباد  آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ قدرتی ناگہانی حادثات میں انسانی جانوں اور مادی نقصانات کو کم کرنے کے لیے عوامی آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آٹھ اکتوبر 2005 کا زلزلہ قدرت کی طرف سے ایک وارننگ تھی کہ ہم مستقبل میں ایسے حادثات سے نمٹنے کے پیش بندی کریں تاکہ ہم ان تکالیف اور دکھوں سے بچ سکیں جو اس ناگہانی آفت کے نتیجے میں ہمارے ہزاروں خاندانوں کے لاکھوں افراد کو جھیلنے پڑے۔ اکتوبر آٹھ 2005 کے زلزلے کے پندرہ سال مکمل ہونے پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجہ میں ہم سے جدا ہونے والے ہزاروں شہریوں کی یادیں آج بھی ہمارے دل و دماغ میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت اور اس سے پہلے کی حکومتوں نے وفاقی حکومت کے تعاون سے زلزلہ سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی از سر نو تعمیر کے لیے محنت اور لگن سے کام کیا اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود زلزلہ سے متاثرہ سات اضلاع میں بہتر فیصد منصوبے مکمل کر لیے جبکہ بارہ فیصد منصوبوں پر کام جاری ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور سولہ فیصد منصوبے جن پر ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا ان پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ قدرتی آفت سے نمٹنے والے محکموں اور ماہرین کی مشاورت سے نئی تعمیرات کو اس انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں زلزلہ یا کسی اور حادثے سے زیادہ متاثر ہوں اور نہ ہی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عوام الناس کے اندر ایک جانب تو قدرتی آفات کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کر کے انہیں تیار کریں اور دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر خطرات کے خلاف پیشگی اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ آزاد کشمیر بدقسمتی سے ایسا خطہ ہے جو ہر وقت قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے اس لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں کو دوسرے حکومتی محکموں کے ساتھ مل کر متوقع خطرات اور حادثات سے نمٹنے کی ایک جامع پالیسی اور حکمت عملی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ان حادثات سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے تیار کرنے کی طرف توجہ بھی دینا ہو گی۔ انہوںنے کہا کہ آزاد کشمیر میں زلزلے، مون سون کے موسم میں بارشوں سے سیلاب اور طغیانی، برفانی تودوں سے نقصانات کے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں جن سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے تیاری کی ضرورت ہے اور اس ضرورت سے حکومت اور مختلف حکومتی ادارے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں