Unity of the Nation Conference 12

پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی ”اتحاد اُمہ کانفرنس“

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے علماء و مشائخ کو اسلامی معاشرے کی طاقت اور پہچان قرار دیتے ہوئے اُن پر زور دیا ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر میں وہی کردار ادا کریں جو اُنہوں نے تحریک پاکستان میں ادا کیا تھا کیونکہ آج جو کشمیری سرینگر، بارہمولہ، سوپور، بانڈی پورہ اور جموں میں کٹ کر گر رہا ہے اُسے اُس پاکستان کے ساتھ وفاداری کی سزا دی جارہی ہے جس کو بنانے میں علماء و مشائخ سمیت لاکھوں فرزندان توحید اور شمع رسالت کے پروانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی تھیں۔ ایوان صدر اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت میں پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی ”اتحاد اُمہ کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں جو جنگ چھیڑ رکھی ہے وہ شاید اب ہمیں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی لڑنی پڑے کیونکہ ہندوتوا کے پرچارک کھلے عام یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ ہندوستان کے آس پاس غیر ہندو ہر طاقت کو ملیا میٹ کر کے ہندو راج قائم کریں گے۔ کانفرنس سے صدر مملکت ڈاکٹر علوی کے علاوہ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المسالک ہم آہنگی پیر نورالحق قادری اور ملک بھر سے آئے ہوئے نامور علماء ومشائخ کے علاوہ سیاسی رہنماؤں اور مختلف مسلم ممالک کے سفارتکاروں نے بھی خطاب کیا اور شرکت کی۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان نے تہذیب کی جنگ اور تہذیبوں کے تصادم کا جو آغاز کیا ہے اُس کو انجام تک پہنچانے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے نے اپنا کردار ادا کرنا ہے جس میں علماء ومشائخ کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے علماء و مشائخ سے براہ راست مخاطب ہو کر پوچھا کے اگر خدانخواستہ بھارت کے انسانیت دشمن ہندوتوا نظریہ سے ٹکرانے کا مرحلہ آیا تو کیا وہ اس کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو مسلمانوں اور انسانیت کے خلاف مکروہ عزائم پر عمل کرنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں کا از سر نو جائزہ لیں اور جہاں جہاں کوئی رخنہ یا دراڑ نظر آئے تو اُس کو دور کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے قوم کو اُس طاقت میں تبدیل کر دیں جو ہمیں تحریک پاکستان میں نظر آئی تھی۔ اسلام کو انسانیت کا مذہب قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ وہ پر کشش دین محبت ہے جس کے قیام اور غلبہ کے لئے ہمارے آقا نبی مہربان حضرت محمد ﷺ نے مکہ کی غار حرا سے تنے تنہا سفر شروع کیا تھا اور آج دنیا کے تمام براعظموں میں دو عرب سے زیادہ مسلمان رنگ، نسل، زبان اورجغرافیائی حدو د قیود سے بالا تر ہو کر ایک خاندان اور کنبے کی شکل میں پھولوں کے خوبصورت گلدستے کی مانند مجسم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دین اسلام کا اعجاز اور نبی اکرم کی شخصیت کی کشش تھی کہ جس نے قبیلوں، طبقوں اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹے ہوئے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے عربوں اور عجمیوں 23سال کے مختصر عرصے میں اتحادو وحدت کی لڑی میں پرو کر ریاست مدینہ کی صورت میں ایک ایسی طاقت بنا دیا جس کے آگے اس وقت کی بڑی بڑی طاقتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں اور اسلام صحرائے عرب سے نکل کر دنیا میں چہارسو پھیل گیا۔ یہ دین تلوار اور توپ کی طاقت سے نہیں بلکہ محبت اور اخوت اور متصادم انسانیت کوجوڑنے کے جذبے کی بدولت پھیلا اور اس میں سب سے نمایاں عنصر مسلمانوں کا باہمی اتحاد وحدت کا جذبہ تھا جس کی کمی کی وجہ سے ہم آج عددی طاقت رکھنے کے باوجود دنیا کے دیگر اقوام کے مقابلہ میں پیچھے رہ گے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹنے اور باہم دست و گریبان ہیں۔ انہوں نے علماء و مشائخ پر زور دیا کہ وہ ایک بار پھر اسلام کودنیا کی غالب طاقت اور مسلمانوں کو ترقی اور خوشحالی کی معراج پر دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں وہی وحدت امت اور وحدت انسانیت کا جذبہ اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ جو ہمارے نبی مہربان کی تعلیمات کا نچوڑ اور سیرت رسول ﷺ کا طرہ امتیاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اُسوہ نبی ﷺ اور سیرت رسول سے اپنی زندگی کو مزین کریں گے تو پھر مادی ترقی کے دروازے خود بخود کھلتے چلے جائیں گے اور ہم دنیا میں ظلم و استبداد کی چکی میں پسنے والے مسلمانوں کی مدد کے قابل بھی ہونگے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہمیں جہاد، شعار اسلامی یا کسی حکم قرآنی کو اختیار کرتے ہوئے کسی جھجک اور معذرت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر ہم حکم قرآنی پر عمل کریں گے اور شعار اسلامی کو اختیار بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کسی فرض کی ادائیگی کے لئے ہمیں کسی غیرسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ مملکت امن و رواداری کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی اور امن و رواری ہی اس کو قائم و دائم رکھ سکتی ہے۔ لہذا مسلمان خاص طور پر علماء و مشائخ پاکستان کے اندر امن و بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کو اپنا فرض اولین بنا لیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ وہاں جو ظلم و بربریت ہوتی ہے اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہر روز درجنوں نوجوانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ماؤں، بہنوں اور بچیوں کی عزت محفوظ نہیں ہے اور اپنی ماؤں، بہنوں کی عزت و حرمت کو بچانے کی کوشش کرنے والے دس سال کے بچے کو بھی اُس وقت دہشت گرد قرار دے کر شہید کر دیا جاتا ہے جب وہ گن بردار بھارتی فوجیوں کے سامنے غیرت ایمانی سے کھڑا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے گھروں میں داخل ہونے والی فوج دہشت گرد ہے یا وہ بچہ دہشت گرد ہے جو اپنی ماؤں بہنوں کی عزت بچانے کے لئے غیر ملکی فوج کے راستے میں کھڑا ہو جاتاہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں سے اُن کا کشمیر چھینا جا رہا ہے، اُن کی آبادی تبدیل کی جارہی ہے اور اپریل سے لے کر اب تک سترہ لاکھ غیر کشمیری ہندوؤں کو ماراشٹرا، بنگال، بہار، ہریانہ، یو پی، راجھستان اور پنچاب سے لا کر کشمیر میں آباد کیا جا چکا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو دو سال کے بعد کشمیر باقی رہے گا اور نہ ہی کشمیر کے مسلمان رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں