pm-imran-khan 32

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان،،،

اسلام آباد، وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت “کراچی ٹرانسفارمیشن پلان” کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس

اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، سینئٹر شبلی فراز، سید امین الحق، سید علی حیدر رضوی، گورنر سندھ عمران اسمعیل (ویڈیو لنک)، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان شریک

اجلاس میں کراچی کے دیرینہ مسائل کے حل کے حوالے سے جامع منصوبے “کراچی ٹرانسفارمیشن پلان” کا جائزہ

وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، سالڈ ویسٹ منیجیمنٹ، نالوں کی صفائی اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کراچی کے عوام کو بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان مسائل کے مستقل بنیادوں پر حل کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں نے جہاں انتظامی ڈھانچے کے مسائل کو اجاگر کیا ہے وہاں کراچی کےعوام کو تحاشہ مسائل سے دوچار کیا ہے جس کا وفاقی حکومت کو مکمل ادراک ہے۔

“کراچی ٹرانسفارمیشن پلان”
پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس پلان کے تحت مختلف منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے بااخیتار اور موثر نظام تشکیل دیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ انتظامی اختیارات کا منتقسم ہونا رہا ہے اور اس امر کی بارہا وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم، سیوریج ٹریٹمنٹ اینڈ ڈسپوزل، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق اختیارات ایک بااختیار ایڈمنسٹریٹر / لوکل گورنمنٹ کو تفویض کیے جائیں۔