Governor of Balochistan 10

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں موجود فکری انتشار اور ثقافتی گھٹن کی بڑی وجہ صحت مند علمی، مکالماتی اور سماجی سرگرمیوں کا فقدان اور فنون لطیفہ سے دوری ہے. عوام کو اظہار ذات کے مواقع فراہم کرنے سے معاشرے میں انسانی جان کی حرمت وعظمت کی نفی کرنے والے بیگانگی کے رحجانات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پاکستان کے مایہ ناز آرٹسٹ ایوب کھوسو اور ڈائریکٹر فلم عباس کاکڑ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مکالماتی اور تخلیقی سرگرمیوں کے علاوہ رنگارنگ عوامی تقریبات کی جاندار اور مستحکم اقدار و روایات موجود ہیں جو انسانی سماج میں فرد کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے، قومی شعور و احساس کو فروغ دینے اور معاشرے کی عظیم اکثریت کی تعمیر وترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے. اس ضمن میں دانشوروں، آرٹسٹوں، موسیقاروں، گلوکاروں اور فنکاروں کا کلیدی کردار ہے۔گورنر یاسین زئی نے ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر وتخلق کیلئے روشن فکر اور معتدل افراد کو آگے آنے پر زور دیا. گورنر یاسین زئی نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال اور قدرتی آفات میں آرٹسٹ اور فنکار حضرات امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں. گورنر یاسین زئی نے ایوب کھوسو اور عباس کاکڑ کی بلوچستان کے مختلف اضلاع اور کراچی میں حالیہ بارشوں سے متاثرہ افراد امداد جمع کرنے کی کاوشوں کو سراہا کہ اس مشکل وقت میں صوبہ بلوچستان اور سندھ کے متاثرین کیلئے درد اور احساس رکھتے ہیں. گورنر بلوچستان نے کہا کہ مشترک انسانی اقدار اور رحجانات کو نظر انداز کرنے کے باعث عدم برداشت، اختلاف رائے کا فقدان اور مثبت تعمیری تنقید سوالات ابھارنے سے خالی ہوگیا. معاشرے کی غالب اکثریت یعنی جوانوں کو صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں سے منسلک کرنے کیلئے لائبریریوں کا قیام اور ڈیبیٹ کلچر کا فروغ بھی اشد ضروری ہے۔گورنر نے ان کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائیَ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں