Emergency program 14

پی اے آر سی گنے کی فصل کی ترقی اور درپیش مسائل پر عملی اقدامات کر رہا ہے،،،

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری منصوبہ برائے “گنے کے پیداواری اضافہ میں و فروغ ” کی جانب سے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں دو روزہ سالانہ سیمینار 2020- کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل تھے۔ گنے کے پیداواری اضافہ و فروغ کے سالانہ سیمینار برائے 2020میں ملک بھر سے زرعی سائنسدانوں و نمائندوں نے شرکت کی اس کے علاوہ سیکریٹری جنرل، پاکستان شوگر ملز ایسو سی ایشن، اسلام آباد، ڈاکٹر شاہد افغان، سی ای او، پنجاب شوگر ریسرچ بورڈ، فیصل آبادبشمول ایکسٹنشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، ڈاکٹر محمدعظیم خان نے کہا وزیر اعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری گنے کے پیداواری اضافہ و فروغ کے اس منصوبے کا بنیادی مقصد میں تمام صوبوں میں گنے کی پیداوار میں اضافے کے لئے رعایتی نرخوں پر معیاری مشینری اور کھاد کی فراہمی، کماد کی ترقی دادہ اقسام کی تیاری، معیاری بیج کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی شامل ہیں اس سے کماد کی فی ایکڑ پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ڈاکٹر عظیم خان نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ گنا ایک کثیر جہتی فصل، خوراک، فیڈ اور توانائی کے حصول کا ذریعہ ہے اور پی اے آر سی انسانی وسائل کی ترقی اور اس سے وابستہ سہولیات کے ذریعے ملک میں گنے کی فصلوں کی تحقیق اور ترقی کو مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ ڈاکٹر عظیم خان نے زراعت کے شعبے کو مشینی بنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے جدید زرعی طریقوں کو اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو نئی اقسام اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے باہم ملکر کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گنے کے بریڈرز کو فائدہ پہچائے جانے کے لئے پی بی آر (پلانٹ بریڈرز رائٹس) پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں نگاب(نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کی ٹیم پی بی آر سسٹم کے ساتھ پیٹنٹ کی ترقی اور منظوری کی تربیت کے لئے معاونت کر سکتی ہے جو بنیادی، پہلے سے بنیادی اور مصدقہ بیج تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو گی
ڈاکٹر شاہد افغان، سی ای او، شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب نے اپنے محکمے کی سرگرمیوں اور گنے کے فروغ کے متعلق اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ گنے کی صنعت کی ترقی کے لئے مقامی سطح پر بریڈنگ پروگرام بہت مددگار ثابت ہو گا۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے زراعت کو خطرات لاحق ہیں اس کے لئے باہم مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قدرتی ماحول اور سازگار موسم کے باعث گنے کی فصل میں پیداواری اضافہ ممکن ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ کاشتکار جدید ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہوں نیز گنے کے پیداواری اضافہ کے لئے منظور شدہ اقسام کی کاشت کو یقینی بنایا جائے۔
ڈاکٹر ناصر ملک، ایگری ایکسٹنشن بورڈ، کے پی کے نے چپ بڈنگ بیج کی ٹیکنالوجی کی تجویز پیش کی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ نیز بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے اور اس کے تجربات بھی کئے جا چکے ہیں جبکہ کسانوں کو 115 چپ بڈ مشینیں فراہم کی گئیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت بیج کی بیجائی اور کھاد کا منصفانہ استعمال بھی زرعی پیداوار کو بڑھانے میں مددگار ہیں لہذا کسی بھی فصل کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں یہ اقدامات نا گزیر ہیں۔
ڈاکٹر غلام محمد علی، ممبر پی ایس ڈی پی اے آر سی نے سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور اس بات پر زور دیا اس طرح کے معیاری سیمینارز سے معلومات کا تبادلہ انتہائی ضروری ہے تاکہ نہ صرف کماد بلکہ دیگر فصلات کی بہتر تحقیق اور مشکلات کا سدباب کی سکے تا کہ ملک زرعی خود کفالت کی منزل کی جانب گامزن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں