Sardar Masood Khan, President of Azad Jammu and Kashmir 25

دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا،،،

اسلام آباد آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں