Kashmir 17

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو تعمیراتی اختیارات مل،،،

مظفرآباد بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کے لیے ایک اور قدم اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں تعینات قابض فوج کو ریاست کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی منصوبے شروع کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد ایڈمنسٹریٹو کونسل نے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مر مو کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کنٹرول آف بلڈنگ آپریشن ایکٹ 1988 اور جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ 1970 میں ترمیم کرتے ہوئے فوج کو مخصوص ”اسٹریٹیجک ایریاز“ میں تعمیراتی سر گرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ بھارتی حکومت کے اس تازہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام اُس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت غیر کشمیری بھارتی شہریوں کے لیے کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر کے نئی آبادیاں تعمیر کرنا اور پوری مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو فوجی اسٹیبلشمنٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اِن قوانین کے نفاذ کا مقصد بالکل واضع ہے کہ بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ فوجی چھاونیوں اور نام نہاد اسٹرٹیجک ایریاز میں عوام کی نظروں سے اُوجھل بستیوں کو تعمیر کر کے وہاں بھارتی شہریوں کو لا کر آباد کیا جائے اور اِنہیں نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت کشمیر کی شہریت دے کر مقبوضہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کو نئے تعمیراتی اختیارات ملنے کے بعد نہ صرف کشمیر کے جنگلات کی کٹائی کا عمل تیز تر ہو جائے گا بلکہ جنگلات کے رقبہ جات بھی سکڑنا شروع ہو جائیں گے۔ جس کے نہایت منفی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ پہلے ہی 243 ھیکٹر زمین بھارتی فوج اور نیم فوجی اداروں کے حوالے کر چکی ہے جبکہ اکیس ہزار چار سو ھیکٹر زمین بھارتی فوج نے غیر قانونی طورپر اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ نئے قانون کے تحت بھارتی فوج کسی بھی علاقے کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر اُس پر قابض ہو سکتی ہے خواہ اسے کشمیریوں کی زرعی زمین پر قبضہ کرنا پڑے یا اُنہیں اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑے۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی تین خواتین رہنماؤں، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، اور فہمیدہ صوفی کو دھلی کے تہاڑ جیل کے سزا یافتہ قیدیوں کے لیے مخصوص وارڈ میں منتقل کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بھارتی حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں کے خلاف آواز بلند کریں اور اِسے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے سے روکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 اور 35-A ختم کرنے کے بعد جو لاک ڈاؤن لگایا تھا اُس کے بعد اب تک تیرہ ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کر رکھا ہے جہاں اِن پر بد ترین غیر انسانی تشدد کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے ان استعماری ہتھکنڈوں کا واحد مقصد یہ ہے کہ کشمیری اپنے حق، حق خود ارادیت کے مطالبے سے دست بردار ہو جائیں جسے اقوام متحدہ سمیت پوری عالمی برادری نے تسلیم کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں