16

وزیراعظم عمران خان ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ،

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس۔

اجلاس میں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور سینئر افسران شریک تھے ۔
اجلاس میں صوبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان کےچیف سیکرٹریز اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے ۔

صوبائ چیف سیکرٹری صاحبان نے اجلاس کو بنیادی اشیائے ضرور یہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے اقدامات اور ان اقدامات کے نتائج کا تقابلی جائزہ پیش کیا ۔

کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں صوبوں میں ضروری ادویات، اور آکسیجن کی سپلائ کو بلا تعطل ممکن بنانے کے حوالے سے بھی شرکاء کو تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا ذکر کرتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اب تک 716 ٹن آٹا اور ایک ارب سے زائد مالیت کی 16008.5 ٹن چینی بڑے ذخیرہ اندوزوں اور ڈیلروں سے تحویل میں لی گئی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں چینی کی قیمت سب سے کم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جے آئ ٹی کی رپورٹ کے تناظر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف مزید موثر کارروائی کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملاوٹ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی جائے۔

گندم اور آٹے کی عوام کو بلا تعطل اور کم قیمت پر دستیابی کو ممکن بنانے کے حوالے سے چیف سیکرٹری پنجاب نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد صوبائ حکومت تقریبا 35ارب روپے مالیت کی گندم کل سے ریلیز کر رہی ہے۔ اس اقدام کی بدولت نہ صرف آٹے کی قلت ختم ہو گی بلکہ گندم اور آٹے کی قیمت میں مرحلہ وار کمی بھی ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کی طرف سے گندم کے حوالے سے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ گندم کی کم قیمت اور بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت کے حوالے سے کوئی دقت درپیش نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر برائےنیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام کی سربراہی میں تمام صوبائ چیف سیکرٹری صاحبان کو گندم اور آٹے کے حوالے سے مربوط اور ہم آہنگ حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تمام صوبوں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ ہر صوبے میں ضرورت کے مطابق مناسب سٹاک کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ اس حکمت عملی کا محور کسان اور عام شہری ہوں کیونکہ ماضی میں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر نے نہ صرف کسان کو اس کے جائز منافع سے محروم کیا بلکہ عام آدمی کو بھی زائد قیمت پر آٹا خریدنے پر مجبور کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں