President of Azad Kashmir   16

وفاقی حکومت نے ایل او سی متاثرین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر احسن قدم اُٹھایا۔ صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے اسی ہزار گھرانوں کے چھ لاکھ دس ہزار شہریوں کے سر پر شفْت کا ہاتھ رکھ کر اُن لوگوں کی مادر وطن کے لیے قربانیوں کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ آزاد کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا حق بھی ادا کیا ہے۔ آزاد کشمیر پاکستان کی نہ صرف مضبوط دفاعی فصیل ہے بلکہ یہاں کے عوام خاص طور پر وہ لوگ جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہر روز بھارت کی ننگی جارحیت کا پوری جرات اور بہادری سے مقابلہ کررہے ہیں وطن کے بے وردی سپاہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ مظفرآباد کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے متاثرہ ایک لاکھ آٹھتیس ہزار لوگوں کے لیے احساس ایمر جنسی کیش پروگرام اور آزاد کشمیر کے بارہ لاکھ لوگوں کے لیے ہیلتھ کارڈ دینے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اُنہوں نے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے متاثرین کو کیش گرانٹ دینے کے حوالے سے تقریب میں بھی اپنے خطاب میں کہا تھا اور اب ایک بار پھر اس بات کو دہراتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تاریخ کی بے مثال قربانیاں دے کر پاکستان کا حصہ کسی جغرافیائی قربت کی وجہ سے نہیں بلکہ عقید ے اور نظریے کی بنیاد پر بننا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگوں نے 73 سال پہلے خون دے کر اس علاقے کو آزاد کرایا تھا لیکن کشمیر کے مقبوضہ حصے کے لوگ 73 سال سے بھارت کے قہر و استبداد اور سیاسی ریشہ دانیوں کے باوجود آج بھی پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور مضبوطی سے اپنے اس نظریے اور عقیدے پر جمے ہوئے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کشمیریوں کو مارنے، اُن کی زمین پر قبضہ کرنے، مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے اور پوری ریاست کو اپنی نو آبادی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں اور اُن کا یہ خیال ہے کہ اُن کی جوابدہی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لیکن کشمیری اُن سے حساب بھی لیں گے اور اُن کی جوابدہی بھی کریں گے اور آزاد کشمیر کے لوگ اُن کا محاسبہ کریں گے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور آزاد کشمیر کے بہاد ر عوام بھارت کے مقابلہ کے لیے دفاعی کے بجائے جارحانہ پالیسی اختیار کریں کیونکہ بھارت آزاد کشمیر،گلگت بلتستان پر حملہ کرنے اور پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ہمیں یہ کہنے کے بجائے کہ ہم صرف آزاد کشمیر اور پاکستان کا دفاع کریں گے ہمیں خالصتان، آسام، تامل ناڈو، مینر و رام کی بات کرنی چاہیے اور دنیا کو بتانا ہے کہ بھارت سیکولر ازم کا نقاب اُتارنے کے بعد ایک فسطائی ریاست کے طور پر اُبھر کر سامنے آ چکا ہے جس کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ بھارت بین الاقوامی سطح پر جہاں ہمارے راستے روکے ہمیں جارحانہ انداز میں جوابی کارروائی کرنا ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم نے جوابی ایکشن نہ لیا تو اگلے دو تین سال کے اندر مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور جغرافیہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا اور کشمیریوں کو اُن کی اپنی سر زمین سے د یس نکالا دے دیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار قدم بڑھائے اور اگر وہ ایسا کرے گا تو لبیک کی سب سے توانا اور بلند آواز آزاد کشمیر سے گونجے گی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے مسلم دشمن اقدامات سے ساری دنیا کے مسلمان جاگ اُٹھے ہیں اور پوری اسلامی دنیا میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی ایک لہر اُٹھتی نظر آ رہی ہے اور یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ کشمیر ہو یا فلسطین مسلمان اب اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں بس قیادت کا چوغا پہننا ہے اور مسلمانوں کو درست سمت میں رہنمائی کرنی ہے۔ آزاد کشمیر کے مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ خطہ پچاسی فیصد شرح خواندگی کے ساتھ پورے پاکستان میں سب سے آگے ہے یہاں کی فضا خطہ کو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں