CHITRAL 17

گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی کا افتتاح

چترال(گل حماد فاروقی) گولین گول واٹر سپلائی سکیم جو 8 جولائی 2019 کو گلوف حادثے کی وجہ سے تباہ ہوا تھا اور اس کے بعد چترال ٹاؤن کے چالیس ہزار آبادی پینے کی صاف پانی سے محروم تھے تاہم انگا ر غون واٹر سپلائی سکیم سے پانی وقتاً فوقتاً لوگوں کو فراہم کیا جاتا تھا مگر کوغذی سے لیکر دنین تک لوگوں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے نہایت مشکلات کا سامنا تھا۔GLOF پھٹنے سے نہایت تباہ کن سیلاب آیا ھتا جس نے نہ صرف پانی کا پائپ لائن بہاکر لے گیا تھا بلکہ 107 میگا واٹ پن بجلی گھر کا پانی کا تالاب بھی تباہ ہوا تھا اور آبپاشی کی پائپ لائن بھی بہہ چکا تھا۔ اس کی بحالی کیلئے لوگوں نے جلسہ جلوس بھی کئے تھے
لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس پائپ لائن کو بحال کرنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی جس میں تین قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھی جو دریا میں گر کر بہہ چکے تھے ان میں سے دو لاشیں تو نکالی گئی مگر ایک لاش ابھی تک لاپتہ ہے۔
عوام کے پر زور اصرار پر صوبائی حکومت نے چترال ٹاؤن کیلئے 36.477 ملین اور یونین کونسل کوہ کیلئے 30.340 ملین کا گرانٹ منظور کیا جس پر علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ چلو دیر آئد درست آئد۔
اس منصوبے کا آج باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس موقع پر ایک سادہ مگر پر وقار تقریب بھی مننعقد ہوئی جس میں سماجی رابطوں کا حیال رکھتے ہوئے لوگ فاصلے پر بیٹھے تھے۔ وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کے مشیر برائیے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش اس موقع پر مہمان حصوصی تھے جنہوں نے باقاعدہ اس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے بورڈ کی نقاب کشائی کی۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ چترال کے ایگزیکٹیو انجنیر زاہد حسین نے کہا کہ اس منصوبے کیلئے صوبائی حکومت نے ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ رقم منظور کیا ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ یہ جلد سے جلد تیار ہو۔ تاہم کام کی معیار کا بہت حیال رکھا جائے گا اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس پائپ لائن کو ایسے محفوظ راستے سے گزارا جائے تاکہ آئندہ سیلاب کی صورت میں اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔
تعمیراتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو حاجی محبوب اعظم نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے پہلے بھی 2013 میں اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کیا تھا مگر چونکہ یہ سیلابی علاقہ ہے اور یہاں بار بار سیلاب آتا ہے جو اس منصوبے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم قدرتی آفات کو تو نہیں روک سکتے تاہم اس کی نقصان کا شرح کم سے کم کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس بار اس ہماری کوشش ہوگی کہ اس پائپ لائن کو ایسے محفوظ راستے سے گزارا جائے تاکہ سیلاب کی وجہ سے اسے کم سے کم نقصان پہنچے یا بالکل محفوظ رہے۔
علاقے کے سیاسی اور سماجی کارکن شریف حسین نے وزیر زادہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ چترال کے تعمیر و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور نہایت محنت سے ترقیاتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر دلچپسی لے رہے ہیں۔ ایک مقامی شحص نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو اس بار ایسے محفوظ راستے سے گزارا جائے تاکہ سیلاب کی وجہ سے پائپ لائن اکھڑ کر سیلاب کا رح تبدیل کرنے کا سبب نہ بنے اور اس میں مقامی مزدوروں کو بھی کام کا موقع دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں