pm-imran-khan 12

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
وفاقی کابینہ کو ملک میں کوویڈ- 19کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے کیسز سے متاثرہ مریضوں کی ضروریات پوری کرنے اور ملک میں صحت کی سہولیات کو مستحکم کر نے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں ایک ہزار مزید بیڈز، جو کہ آکسیجن کی سہولت سے آراستہ ہو ں گے، اسی ماہ (جون میں) قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کورونا کے بارے میں معلومات اور سہولیات کی آگاہی کی فراہمی کے لئے ویب سائٹ اور موبائل اپلیکیشن (آر ایم ایس) سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں لیڈرشپ کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عوام کے ایک طبقے میں کورونا کے بارے میں ابھی بھی غلط فہمیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کے پیش نظر لاک ڈاؤن ممکن نہیں کیونکہ جہاں ہمیں ایک طرف کورونا سے خطر ہ ہے وہاں دوسری طرف غربت بھی ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشرے میں اضطراب (Panic)کی بجائے اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہو کر کورونا کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ عوام کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

اجلاس کو وفاقی دارالحکومت میں واقع ہسپتالوں میں کورونا کی سہولیات کے بارے میں بھی بریف کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں ماہ مختلف ہسپتالوں میں مزید دو سو بیڈز کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی اور سیاسی قیادت کی مشاورت سے لائحہ عمل طے پا گیا ہے۔

کابینہ کو شوگر انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایکشن میٹرکس پر وزیرِ اعظم کی منظوری سے عمل درآمد شروع کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کاروائی کے تین حصے ہیں۔
پہلا حصہ سزاؤں اور ریکوری سے متعلق ہے۔ اس میں سات مختلف ایکشن ہیں۔
۱۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سبسڈی کے معاملے میں کمیشن نے 2014سے 2019تک کے معاملات کا جائزہ لیا اس عرصے کے دوران 29ارب کی سبسڈی دی گئی۔ تاہم وزیرِ اعظم کی ہدایت پر یہ مسئلہ نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اپنے قانون کے مطابق 1985سے دی جانے والی سبسڈی خصوصاً نوے کی دہائی میں دی گئی سیبسڈی کا بھی جائزہ لے گی۔
۲۔ سیل ٹیکس، انکم ٹیکس اور بے نامی ٹرانزیکشن کا معاملہ ایف بی آر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جو نوے دنوں میں کاروائی مکمل کرے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کمیشن نے صرف 09ملوں کے معاملات کا جائزہ لیا تھا۔ لیکن اب وزیرِ اعظم کے احکامات کی روشنی میں ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بقیہ 88ملوں کے معاملات کا بھی جائزہ لے۔
۳۔ کارٹیلائزیشن کا معاملہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔ جو نوے دنوں میں کاروائی مکمل کرے گا۔
۴۔ قرضے معاف کرانے، بنکوں کے پاس رہن شدہ اثاثوں کو بیچنے اور لون ڈیفالٹ کا معاملہ اسٹیٹ بنک کے حوالے کیا گیا ہے جو نوے دنوں میں اپنا کام مکمل کرے گا۔
۵۔ کارپوریٹ فراڈ کا معاملہ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے حوالے کیا گیا ہے
۶۔ برآمدات میں فراڈ اور منی لانڈرنگ کا معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔
۷۔ گنے کی قیمتوں اور متعلقہ صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔
ii) سفارشات کا دوسرا حصہ ریگولیٹری فریم ورک سے متعلقہ ہے۔
اس حوالے سے قوانین میں ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ فارورڈ سیل جیسے مسئلے سے نمٹا جا سکے
iii) چینی کی پیداواری قیمت کا تعین اور قیمتوں میں کمی لانے کے لئے اقدامات
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی پیدواری قیمت کا تعین کرنے اور چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے وزیر برائے صنعت و پیداوار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اقدامات کی سفارشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی کی سطح پر اقدامات تجویز کرے گی۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوگر انکوائری کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت مکمل شفافیت اور عوام کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چینی کی قیمت میں ہر صورت کمی لائیں گے اور عوام دیکھے گی کہ حکومت کے سامنے صرف عوام کا مفاد مقدم ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ “پاکستان اور پاکستانی عوام کی جنگ ہے”۔ ” جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوگا ان کے خلاف ایکشن ضرور ہوگا”

ملک کے مختلف حصوں میں پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کی رپورٹس پر وزیرِ اعظم کا سخت نوٹس
٭ وزیراعظم نے ملک کے بعض مقامات پر پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت کی رپورٹس کا سخت نوٹس لیا اور ہدایت کی کہ اس مصنوعی قلت کا سبب بننے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
اس حوالے سے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے علیحدہ سے بھجوائے جا رہے ہیں۔
پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس
وزیرِ اعظم نے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا۔ وزیرِ اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کنٹرول کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے اور اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ کابینہ کو پیش کی جائے۔

٭ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور فیصلوں پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وزارتوں میں ای فائلنگ اور فائلوں کے ای ٹریکنگ کے نظام کے نفاذ کو تیز کیا جائے۔

اجلاس کو متروکہ املاک کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے اور متروکہ املاک وقف بورڈ کے معاملات کو منظم کرنے کے حوالے سے ٹاسک فورس کی سفارشات سے متعلق بریف کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متروکہ وقف املاک کی ملکیت میں سینتالیس ہزار املاک ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متروکہ املاک کی جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کو تیز کیا جائے اور انکی جیو ٹیگنگ کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 03جون 2020 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے اسٹیل مل کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر تفصیلی طور پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا اصلاحات ایجنڈا ہے۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ سالہا سال سے غیر فعال ادارے کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد میں اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید ٓگے بڑھا یا جائے۔

ایجنڈا نمبر 2۔
سرکاری اداروں میں معیاری افرادی قوت کو یقینی بنانے خصوصا ً اداروں کے سربراہان کے عہدوں کے لئے قابل افراد کو حکومت میں لانے کے حوالے سے طریقہ کار کے بارے میں ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی سفارشات پیش کیں جن کو کابینہ نے منظور کیا۔

ایجنڈا نمبر3:

معاون خصوصی شہزاد ارباب نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے خصوصاً اداروں اور اہداف مقرر کرنے اور ان کے حصول کے لئے پرفارمنس کنٹریکٹ متعارف کرنے کے نظام پر بریفنگ دی۔
ایجنڈا نمبر4
کابینہ نے دلشاد علی احمد کی بطور صدر/سی ای او ایس ایم ای بنک لمیٹڈ تعیناتی کی منظوری دی۔
ایجنڈا نمبر 5:
کابینہ نے سیکٹر ایف 12اور سیکٹر جی 12کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کیلئے مختص کرنے کی منظوری دی۔اس ضمن میں ان سیکٹرز میں زمین حاصل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ ان سیکٹرز میں تعمیرہونے والے گھروں میں پچاس فیصد کوٹہ وفاقی ملازمین کیلئے، 25فیصد اووسیز پاکستانیز جبکہ بقیہ پچیس فیصد پبلک کے لئے مختص کیا جائے گا۔
کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ کسی غریب آدمی سے بغیر معاوضہ ادا کیے زمین نہیں لی جائے اور نہ ہی کسی کو چھت سے محروم کیا جائے گا۔ کابینہ کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جی 12میں مقیم کچی آبادیوں کے مکینوں کے لئے اسی سیکٹر میں کثیرالمنزلہ فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے اور ان کو چھت فراہم کی جائے گی۔

ایجنڈا نمبر 6
کابینہ نے سوئی ناردن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دی۔

ایجنڈا نمبر7
کابینہ نے ارسا ٹیلی میٹری سسٹم (جو کہ 2002میں واپڈا کی جانب سے نصب کیا گیا تھا)کو سبوتاژ کرنے کے معاملے کی انکوائری کے لئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکرٹری ہوابازی اور سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ کمیٹی ارسا ٹیلی میٹری سسٹم کے سبوتاژ ہونے میں ممبرز ارسا یا کسی دیگر فرد /افراد کے ملوث ہونے کا نوعیت اورحد کا تعین کرے گی اور ورلڈ بنک کے منصوبے کہ جس میں کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنا تھیں اس معاملے ہونے والے بدانتظامی کی وجوہات کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی پندرہ دنوں میں اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں