Eid-Shopping-Report 103

چیف جسٹس کا ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ملک بھر میں شاپنگ مالز اور کراچی کی تمام مارکیٹس کھولنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ہدایت کی عید کے موقع پر ہفتے ،اتوار کو بھی مالز اور مارکیٹیں بند نہ کی جائیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے ، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ سماعت کررہاہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل خالدجاویدنےکراچی سےوڈیولنک پر دلائل کا آغاز کیا۔

کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کراچی کی تمام مارکیٹس کھولنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس کی کمشنرکراچی کومارکیٹس کھولنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا زینب مارکیٹ میں غریب لوگ آتےہیں، زینب مارکیٹ میں لوگوں کوایس او پیزعمل کرائیں، ایس او پیز پر عمل کرانا ہےآپ نے لوگوں کو مارنایا ڈرانانہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا کراچی میں چند مالز کے علاوہ تمام مارکیٹس کھلی ہیں، جو دکانیں سیل کی گئیں انہیں بھی کھول دیں، چھوٹےتاجرکوروناکےبجائےبھوک سےہی نہ مرجائیں، وزارت قومی صحت کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا جن چھوٹی مارکیٹس کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں؟ کیا زینب مارکیٹ اور راجہ بازار چھوٹی مارکیٹس ہیں؟ کیا طارق روڈ ،صدر کا شمار بھی چھوٹی مارکیٹوں میں ہوتا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں جبکہ کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ مالز میں 70فیصد لوگ تفریح کے لئے جاتے ہیں۔

کوروناازخودنوٹس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ کو فوری طلب کرتے ہوئے سندھ حکومت سے بڑے شاپنگ مالزکھولنے پر ہدایات فوری مانگ لی، اےجی سندھ نے کہا حکومت آج سے شاپنگ مالز کھولنے پر غورکررہی ہے۔

جسٹس مظہرعالم کا کہنا تھا کہ باقی مارکیٹیں کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیا جواز؟ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عید کے موقع پر ہفتے ،اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کی جائیں اور چھوٹےدکانداروں کوکام کرنےسےدیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو بھوک سے مر جائے گا، کراچی میں 5بڑے مال کےعلاوہ کیاسب مارکیٹیں کھلی ہیں،کمشنر کراچی نے بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پی پر عمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ سیل کی گئی مارکیٹس بھی کھولیں ،انھیں ڈرانےکےبجائےسمجھائیں، کراچی کی تمام مارکیٹ کھول دیں، مارکیٹس میں چھوٹے طبقے کا کاروبار ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہ ملک بھر کے تمام شاپنگ مالزکھولنے کاحکم دےرہےہیں ، عید پر رش بڑھ جاتا ہے،ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بندنہ کرائی جائیں،آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے مگر دوسرے لینا چاہتےہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پرہی نئے کپڑےپہنتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کوروناوائرس ہفتے اور اتوار کو کہیں چلا نہیں جاتا، کیا کورونا نے بتایا ہے کہ وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آتا؟ کیا ہفتہ اور اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے؟ ہفتہ اتوار کو مارکیٹیں بند کرنے کا کیا جواز ہے؟

چیف جسٹس نےملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کاحکم دےدیا اور کہا ہفتہ اور اتوار کو بھی مالز اور مارکیٹیں بند نہیں ہوں گی، پشاور میں کتنے شاپنگ مالز ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان پشاور میں کوئی شاپنگ مال بند نہیں، تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں جبکہ اےجی بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوئی مال نہیں باقی مارکیٹس کھلی ہیں۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ کوروناکےنام پراربوں خرچ کئےجاچکے،یہ کہاں جارہے ہیں، جس پر نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا ہمارے لئے 25ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، یہ25ارب روپے پورے نہیں ہوئے، 25 ارب آپ کو ملے ہیں صوبوں کو الگ ملے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا 500 ارب کوروناکےمریضوں پر خرچ ہوں تووہ کروڑپتی بن جائیں، اتنی رقم مختص ہونے پربھی 600لوگ جاں بحق ہوگئے تو کیافائدہ ، آپ25ارب سے کیا قرنطینہ کیلئے کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیرکررہےہیں،نمائندہ این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ رقم پوری طرح نہیں ملی ،دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس کا این ڈٰی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہماراملک ابھی تک ٹیسٹنگ کٹس کی صلاحیت کیوں نہ حاصل کرسکا تو نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا اس کاجواب وزارت صحت بہتردےسکتی ہے ، جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہورہےہیں، رپورٹ میں اخراجات کی واضح تفصیلات موجودنہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ملک کےعوام حکومت کےغلام نہیں، لوگوں کو قرنطینہ کے نام پر یرغمال بنایاجارہاہے، لوگوں کی حقوق کی ضمانت آئین نےدی ہے ،آپ کسی پر کوئی احسان نہیں کررہے ، یہ پیسہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں سےضرورت مندوں کونہیں مل سکتا۔

یاد رہے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس میں وفاقی حکومت نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی، جس میں قومی رابطہ کمیٹی میں کئےگئےفیصلوں سےمتعلق عدالت کو آگاہ کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اجلاس میں تعمیراتی سیکٹر کے فیز ٹو کو کھولنےکافیصلہ کیاگیا، شاپنگ مالز، شادی ہالز سمیت متعدد جگہوں کو 31مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا اور عوام کی سہولت کیلئے چھوٹے تجارتی مراکز کھولنے کی اجازت دی۔

واضح رہے گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے حکومت کو کورونا کے خلاف اقدامات پریکساں پالیسی بنانےکا حکم دیتے ہوئے این ڈی ایم اے غیر ملکی امداد کی تفصیل بھی مانگ لی تھی ، چیف جسٹس نے وفاق اور صوبوں کی رپورٹس غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا تھا ملک کے حصوں میں آگ لگی ہے، حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں ، صدر اور وزیراعظم کے ارادے نیک ہوں گے ،مگر کچھ ہوتا ہوا نظرنہیں آرہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں