ماہی گیروں 17

ماہی گیروں کو حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ مچھلی کے شکار کی اجازت دیدی

وفاقی حکومت اور حکومت سندھ نے ماہی گیروں کو حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ مچھلی کے شکار کی اجازت دیدی
ماہی گیروں کو مچھلی پکڑنے کی اجازت صوبے اور وفاق نے مل کر دی، تمام اسٹیک ہولڈر آپریشن شروع کرنے سے پہلے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کا حلف نامہ دینگے، ہاربر پر سماجی فاصلے کا خیال اور سینیٹائزر سمیت ماسک کا استعمال کیا جائے گا وفاقی حکومت اور حکومت سندھ نے ماہی گیروں کو حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ مچھلی کے شکار کی اجازت دے دی۔ماہی گیروں کو مچھلی پکڑنے کی اجازت صوبے اور وفاق نے مل کر دی۔ تمام اسٹیک ہولڈر آپریشن شروع کرنے سے پہلے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کا حلف نامہ دینگے جبکہ ہاربر پر سماجی فاصلے کا خیال اور سینیٹائزر سمیت ماسک کا استعمال کیا جائے گا۔ایس او پیز سے متعلق اجلاس میں ڈی جی پوررٹس اینڈ شپنگ شکیل منگریجو، فشریز ڈولپمنٹ کمشنر ڈاکٹر صفیہ مشتاق، کمانڈر راحت، ایم ڈی کورنگی فش ہاربر، ایڈیشنل سیکٹری لائف اسٹاک اینڈ فشریز سندھ ڈاکٹر روشن مظہر اور فشریز چئیرمین عبدالبر بھی شامل تھے۔فش ہاربر اور ماہی گیروں کیلیے ایس او پیز جاری کر دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکٹ 2014 کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق فش ہاربر اور فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کا عملہ تمام تر احتیاط کرانے اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کا پابند ہوگا۔ مچھلی فروخت کے بعد ہاربر کی صفائی لازمی قرار دی گئی ہے۔مچھلی ایکسپورٹ سے وابستہ عملہ اور گاڑیوں کا داخلہ واک تھرو سینیٹائزر گیٹ کے ذریعے ہوگا۔ ایکسپورٹ پروسیسنگ پلانٹ چلانے والے مالکان مختلف شفٹوں میں محدود عملے کے ساتھ کام کرنے کے پابند ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں