chaudhry-sarwar 28

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پنجاب بھر میں شہریوں کو طبی سہولیات فراہم

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پنجاب بھر میں شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرائیویٹ یونیورسٹی اور کالجز میں ٹیلی میڈیشن کی بنیاد رکھی دی جس آئندہ چند روز میں کشمیر کے علاقوں میں بھی شروع کر دیا جائےگا جبکہ صرف لاہور میں پہلے ہی دن 9ہزار شہریوں نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بنائے جانے والے ٹیلی میڈیشن کے ذریعے ڈاکٹروں سے رہنمائی لی ہے تاہم اس کام کے لیے 2سو کے قریب ڈاکٹروں کے وفد نے شہریوں کو اس حوالے سے رہنمائی دی اور ان لائن ادویات کا بتایا جبکہ ٹیلی میڈیشن جیسے کامیاب طریقہ کار کو رائج کرنے کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے گورنر پنجاب کو چند روز قبل بریفنگ دی جسے پہلے فیز میں لاہور اور پھر پنجاب بھر میں شروع کر دیا گیا یے۔ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی نے بھی لیٹر نمبر01/1842 26 مارچ کو لیٹر کے ذریعے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے اشتراک سے نیو ٹیچنگ بلاک ہولی فیملی پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ٹیلی میڈیشن کا آغاز کر دیا ہے جبکہ آر ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمر کورونا کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی کا آغاز نہ کر سکیں ہیں جس سے ایک مرتبہ پھر ان کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی ہے اور صرف فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہو کر رہ۔گئے ہیں جبکہ اسوقت ینگ ڈاکٹرز سمیت ایم ایس بی بی ایچ ڈاکٹر رفیق, راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی کے ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود رندھاوا اپنی ٹیم کے ساتھ فونٹ لائن پر شہریوں کی خدمات اور کورونا وائرس سے بچانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ راولپنڈی میں شہریوں کو ٹیلیفون کے ذریعے طبی سہولت فراہم کرنے کیلیے شروع ہونے والی ٹیلی میڈیشن سروس کے لیے تمام تر سامان بھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور مہیا کررہے ہے تاہم آنے والے دنوں میں یوایچ ایس ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے لیے میڈیکیٹڈ ماسک سمیت کٹ اور دیگر ضروری سامان بھی مہیا کریگی جس پر کام شروع ہو چکا ہے۔
ملک بھر میں کورونا اور دیگر امراض کے لیے ہسپتال آنے کی بجائے ٹیلیفون کے ذریعے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے فری ہیلپ لائن کے ذریعے اسپیشل ڈاکٹر مددگار ہونگے۔ واضح رہے کہ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کورونا کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی متعارف نہ کروا سکی یے۔ آر آئی یو میں عامر محمود نامی اسٹینوگرافر کا ٹرانسفر کردیا گیا جسے پروفیسر عمر نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے رکواکیا تاہم اب جبکہ آر ایم یو میں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں جس پر تمام پروفیسر اور دیگر عملے نے اسٹینوگرافر عامر بن کو فوری طور پر راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی میں ٹرانسفر کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں