‏وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب 35

‏وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

‏وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

‏اس وقت ساری دنیا کورونا وائرس کی جنگ لڑ رہی ہے
‏ہر ملک اپنی صلاحیت کےمطابق کورونا سےجنگ لڑ رہا ہے

‏چین نےووہان شہر میں 2 کروڑ لوگوں کو لاک ڈاؤن کر دیا
‏اگر ہمارے بھی چین جیسے حالات ہوتے تو سارے شہروں کو بند کر دیتا
‏ہمارا مسئلہ ہے کہ ہماری 25 فیصد آباد غریب ہے، جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتی
‏اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کاخیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوسکتا
‏کیا ہم لاک ڈاوَن کر کے لوگوں کےگھروں میں کھانا پہنچا سکتے ہیں؟
‏یہ ایسی بیماری ہےکہ غریب امیر میں فرق نہیں کرتی،
‏برطانیہ کے وزیراعظم کو کورونا وائرس ہو گیا ہے

‏بھارت میں لوگ بھوک کی وجہ سےسڑکوں پرآگئے
‏بھارتی وزیراعظم لاک ڈاوَن کےفیصلےپر قوم سےمعافی مانگی
‏ہم نےملکی حالت دیکھ کریہ جنگ حکمت سےلڑنی ہے
‏حکومت اورقوم مل کرلڑےگی تو کورونا کےخلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے
‏کیا ہم وسائل سےیہ جنگ لڑ سکتےہیں
‏ہمارےپاس وسائل تو نہیں ہے،پر سب سے بڑی چیز ہمارے پاس ایمان ہے
‏ایمان ہماری سب سےبڑی طاقت ہے
‏ہماری دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے
‏ان دو طاقتوں کا ہم نے استعمال کرنا ہے، کورونا کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے
‏وزیراعظم آفس میں ایک سیل ہےجو پورا ڈیٹا دیکھ رہا ہے
‏امریکہ کا ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر ہے
‏ہم نے سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا جو 8 ارب ڈالر بنتا ہے
‏کورونا ٹائیگر فورس تشکیل دینےکافیصلہ کیا ہے
‏ہماری ٹائیگرفورس بتائےگی کہ گھروں میں قرنطینہ کیسےکرناہے ہے
‏جن علاقوں کوہم لاک ڈاوَن کریں گے وہاں ٹائیگرفورس رضا کار کھانا پہنچائیں گے
‏آج وزیراعظم کورونا فنڈز کے قیام کااعلان کرتاہوں
‏کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائی جانے والی رقم پرکوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی
‏بیرون ملک پاکستانی ریلیف فنڈمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں
‏ذخیرہ اندوزوں کو کہنا چاہتا ہوں آپ کی وجہ سےلوگ مریں گے
‏ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں،ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں ‏ذخیرہ اندوزوں کو عبرت ناک سزائیں دیں گے
‏مدینہ دنیاکی پہلی فلاحی ریاست تھی
وزیر اعظم کا خطاب میں کہنا تھا کہ ‏ریاست مدینہ میں کمزورطبقےکاخاص خیال رکھا جاتا تھا
‏ہمیں پاکستان میں غریب طبقےکا خیال رکھنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں