pm-imran-khan 38

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کے چیلنج کے پیش نظر

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کے چیلنج کے پیش نظر مختلف شعبوں میں اٹھائے جانے والے اقدامات خاص طور پر صنعت و تجارت، تعمیرات، توانائی اور خصوصاً اس مشکل صورتحال میں غربت کا شکار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اعلیٰ سطحی اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر شریک۔ ویڈیو لنک کے ذریعے گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر و متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری صاحبان اجلاس میں شریک تھے۔
٭ اجلاس میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ۔ وزیرِ اعظم ان اقدامات کا اعلان بہت جلد کریں گے۔
٭ ملک میں ممکنہ حد تک صنعتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی سیر حاصل گفتگو
٭ اجلاس کے دوران مشیر تجارت نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق تمام بڑے کارخانوں کے مالکان کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ کارخانوں میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے ملازمین کے تحفظ کے لئے اقدامات کو باہمی مشاورت سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
٭ تعمیرات کے شعبے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور اقدامات پر بھی تفصیلی غور
٭ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اس مشکل گھڑی میں قائم کیے جانے والے کورونا ریلیف فنڈ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور اندرون ملک مخیر حضرات کی شمولیت کے حوالے سے طریقہ کار پر گورنر اسٹیٹ بنک کی جانب سے بریفنگ
٭ اندرون اور بیرون ملک محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے اس مشکل گھڑی میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے حوالے سے طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور۔ وزیرِ اعظم نے گورنر اسٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں متعلقہ اداروں سے باہمی مشاورت کے بعد تمام تر تفصیلات اور طریقہ کار کل تک پیش کیا جائے
٭ اجلاس میں توانائی کے شعبے سے متعلقہ معاملات اور خصوصاً موجودہ صورتحال کے تناظر میں ملکی اور عوام کے مفاد کے تحفظ کے لئے اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بھی بریفنگ
٭ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی کٹائی کے سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی کٹائی سے وابستہ افراد کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کو جلد حتمی شکل دی جائے
٭ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ معیشت کا پہیہ جاری رکھنے کے لئے مطلوبہ صنعتوں کی فہرست مرتب کی جائے گی جس کے لئے حکومت کی جانب سے ضروری سہولت کاری فراہم کی جائے گی تاکہ صنعتی عمل کم سے کم متاثر ہو
٭ وزیر برائے اقتصادی امور نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں 93 انٹر نیشنل این جی اوز کو ملک میں چھ ماہ کے لئے کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ مزید 53 اداروں کی درخواست زیر غور ہے جس پر جلد فیصلہ کر لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس لئے لیا گیا ہے تاکہ انٹرنیشنل این جی اوز کواس مشکل گھڑی میں رفاحی کاموں میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔
٭ وزیرِ اعظم نے وزارتِ فوڈ سیکیورٹی، صنعت وتجارت، اقتصادی امور اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ ان وزارتوں میں ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے اور تمام ضروری اقدامات کے لئے سفارشات پیش کرے
٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل صورتحال میں حکومتی اداروں کو مزید متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وہ تمام اقدامات اٹھائے گی جس سے عوام اور ہر شعبے کو اس مشکل گھڑی میں ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ ہمیں غربت جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کمزور طبقوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے تمام تر وسائل برؤے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی اور ملک میں موجود مخیر حضرات ہمارے لئے امید کی کرن ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بیرون ملک اور اندرون ملک محب وطن پاکستانیوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں ثابت کیا ہے کہ ہم بحثیت قوم کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
٭ وزیرِ اعظم نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ہدایت کی کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی ملک بھر میں دستیابی پر خصوصی نظر رکھی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں آٹا، دالیں، چاول، گھی اور چینی وغیرہ جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت درپیش نہ ہو۔اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی و صوبائی متعلقہ حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جو خوارک کے حوالے سے صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے اور سفارشات پیش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں