قیدیوں 39

‏قیدیوں کی ضمانت پر رہائی پر حکومت کے تحفظات کے خلاف درخواست پر سماعت

‏قیدیوں کی ضمانت پر رہائی پر حکومت کے تحفظات کے خلاف درخواست پر سماعت ‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی‏ آپ کو چاہیے تھا ایگزیکٹو کو کہتے وہ اپنا کام کریں،عدالت کی سیکریٹری قانون کو ہدایت‏تمام تفتیشی افسران کو نہ کوئی تجربہ ہے نہ ہی قانون کا پتا ہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏ہمارے ہاں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏عدالت پر الزام لگ گیا اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون خاموش رہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏پاکستان دنیا میں 117 ویں نمبر پر ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس‏عدالتوں کا معاملہ دو فیصد ہے یہ سارے کام ایگزیکٹو اتھارٹی کے کرنے کے ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏انصاف کی فراہمی پر کیا آپ نے عالمی انڈیکس کی رپورٹ دیکھی ہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏ہمیں تردید کرنا چاہیے تھی نہیں کی اس غلطی کو تسلیم کرتے ہیں،سیکریٹری قانون‏اگر آپ نے بیان نہیں دیا تو تردید کیوں نہیں کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏ایگزیکٹو کیسے عدالت پر الزام لگا سکتی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ‏سیکرٹری صاحب بتائیں اپنے ڈیپارٹمنٹ سے منسوب بیان کی تردید کی،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏ یہ ایک سنگین معاملہ ہے عدالت پر الزام لگا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏اخبار میں چھپنے والی خبر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے،سیکریٹری وزارت قانو ‏عدالت کی سیکریٹری قانون کو انگریزی اخبار کی خبر پڑھنے کی ہدایت‏ایسا نہیں ہے نہ ہمارے کسی افسر نے ایسا بیان دیا،سیکریٹری قانون وانصاف‏سارے کام ایگزیکٹو کے کرنے کے ہیں الزام عدالتوں پر لگتا ہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ‏کیا حکومت عدالت کے اس اقدام سے خوش نہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏ہم اس کی تحقیقات کر کے آپ کو بتائیں گے،سیکریٹری قانون وانصاف‏کیا آپ کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ جیل میں زائد قیدی رکھیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏افسران بغیر پڑھیں بیان دے رہے ہیں، ایگزیکٹو الزام عدالتوں پر لگاتی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ‏

شرمندگی کا مقام ہے جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود ہیں ،عدالت‏ایگزیکٹو کام کر رہی ہوتی تو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی ،چیف جسٹس اطہر من اللہ

عدالت کی سیکریٹری قانون کو آٹھ وجوہات سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت‏

آئینی ذمے داریاں پوری نہ ہونے کی وجہ آج ہم 117 ویں نمبر پر ہیں،چیف جسٹس‏

عدالت نے انصاف کی فراہمی کے عالمی انڈیکس میں 117 نمبر پر ہونے کی وجوہات پر رپورٹ طلب کرلی‏

دو ہزار قیدیوں کی جیل میں پانچ ہزار قیدی رکھے ہوئے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏

دنیا بھر میں جیلوں میں قیدی زیادہ ہی ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر‏

کیا آپ جیل میں دورہ کریں گے کہ وہاں قیدیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ‏

ایمرجنسی میں یہ عدالت کیا کرے آپ بتائیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ کا مکالمہ‏

کیا آوارہ گردی کی وجہ کسی قیدی کو جیل میں رکھا جاسکتا ہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں