media 54

صحافت کے مستقبل کی تشکیل،آگاہی ایوارڈزکے 7 سال،معیار اور ابلاغی اخلاقیات کیلئے 40 صحافیوں میں ایوارڈ تقسیم

پاکستان میں سب سے زیادہ چاہے جانے والے اور باوقار آگاہی ایوارڈز 40 صحافیوں کو میڈیا میں ان کی مہارت اور اخلاقیات کیلئے دیئے گئے ۔آگاہی ایورارڈز کو ساتویں سال ملک بھر سے40 شعبوں میں ہزاروں نامزدگیاں وصول ہوئیں۔قومی بین الاقوامی ماہرین،ڈویلپمنٹ پروفیشنلز، ماہرین تعلیم اور میڈیا پروفیشنلز پرمبنی جیوری نے پرنٹ ، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور آن لائن میڈیا کے صحافیوں کی طرف سے بھیجی گئی رپورٹس کا تجزیہ کیا۔آگاہی ایوارڈز ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ پاکستان میں صحافت کو ایسا حوالہ بنایا جائے جو عالمی معیار ات کے مطابق ہو۔ان ایورارڈ کا فیصلہ ملک بھر سے موصول ہونے والی بہترین رپورٹس نمایاں کرتے ہوئے صحافیوں کے حوصلے اور عزم کے اعتراف کرتے ہوئے صحافت میں مہارت کو منانا ہے۔گزشتہ برسوں میں جیتنے والوں نے جو کام کیا اس میں زیادہ تر سیاسی و معاشی دبائو برداشت کرتے ہوئے کیا اور اس طرح میڈیا پر عوام کا اعتمادبرقرار رہا جس کی بدولت ملک بھر میں لوگوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔آگاہی ایوارڈ پاکستان میں اعدادو شمار کے مطابق اور تفتیشی اندازمیں صحافت کو فروغ دیتے ہیں۔آگاہی ایوارڈزانسانی مفاد پر مبنی مواد اور اثر انگیز صحافت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔آگاہی ایوارڈز کا مقصدملک میں ہونے والی بہترین صحافت کو تسلیم کرنا اور اس کا اعتراف کرنا ہے اور اس کیلئے میڈیا انڈسٹری میں صحت مند مقابلے کا اہتمام کروایا جاتا ہے ۔اخلاقی ا ور پیشہ وارانہ صحافتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ شہریوں کی غیر جانبدارانہ معلومات تک رسائی کیلئے جامع معلوماتی مواد تخلیق کیا جاسکے جس پر اعتماد کیا جا سکے۔آگاہی ایوارڈز کیلئے جو سٹوریز منتخب کی جاتی ہیں ان کا تجزیہ یونیسکو کے میڈیا ، ڈویلپمنٹ انڈی کیٹرز کے اصولوں اور سنٹر فار انٹر نیٹ اینڈ میڈیا اتیھکس کے اشتراک سے کیا جاتا ہے۔نامور رائے سازوں سینئر صحافیوں ، پالیسی سازوں، سفارتکاروں ، سفیروں ، دانشوروں،میڈیاانڈسٹری کے ممتاز پروفیشنلز اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے 7 ویں ایوارڈزکی تقریب میں شرکت کی۔ڈنمار کے سفیر راف مچل ہے پر یرا۔یورپی یونین کی سفیر محترمہ اندرولاکا مینارہ،سابق سیکرٹری مظفر قریشی،سید کمال شاہ اوردیگر شخصیات نے آگاہی ایوارڈز2019 ء تقسیم کیے۔ پریو ش چوہدری ،صدرآگاہی اور بانی آگاہی ایوارڈز نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ رسائی میں میسر اعدادو شمار ، اطلاعات کا حق اور وسائل تک پہنچ ، تحقیق اور نئے کام کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہیں جو ایک نالج اکانومی قائم کرتے ہیں۔یہ مومینٹم درست سمت میں آگے بڑھانے کیلئے میڈیا کی آزادی سب سے اہم ہے جس کی بدولت معاشرہ خوشحالی پاتا ہے۔عامر جہانگیر، چیف ایگزیکٹو مشعل پاکستان اور بانی آگاہی ایوارڈز نے ایوارڈز کے اجراء کیلئے اپنے ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صحافت اداروں سے اب عوام پر مرکوز ہورہی ہے۔آگاہی ایوارڈزایک ایسا عمل انگیز ہے جو معاشرے میں بہترین جانکاری سازوں کا اعتراف کرتے ہوئے مزید آگاہ اور مزید مربوط ایکوسسٹم کی راہ ہموار کرے گا۔پی ایس او کے کارپوریٹ مواصلات اور کسٹمر سروسز کے سربراہ عمران رانا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آگاہی ایوارڈز کے اسٹریٹیجک شراکت دار کی حیثیت سے ہم پاکستان میں صحافت کے مستقبل کی تشکیل کے اس سفر کا حصہ بننے پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ پی ایس او آئل مارکیٹنگ کی سب سے بڑی کمپنی کی حیثیت سے معاشرے کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کیلئے مدد فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی توانائی ، ماحولیات اور سی ایس آر ایوارڈ کو سپورٹ کر رہی ہے۔ جس کا مقصد صحافیوں کی جانب سے عوام میں شعور پیدا کرنے کیلئے کئے گئے کام کو تسلیم کرنا ہے۔اس موقع پر نیسلے پاکستان کے کارپوریٹ امور کے سربراہ وقار احمد خان نے خطاب کرتے ہوے کہا پاکستان کے غذائیت کے چیلنج سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اجتماعی نقطہ نظر اپنانے سے نیسلے پاکستان شہری اور دیہاتی علاقوں میں بھوک کے سنگین چیلنج سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ایوارڈز تقریب میں میزبانی کے فرائض سید شمعون ہاشمی اور سونیا رحمان نے ادا کیے۔اس شام کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے معیاری صحافت کو فروغ دیا جائے گا۔ایوارڈز کا مقصد معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو مزید مضبوط بنانے کیلئے معیاری صحافت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے نظریہ کو خطے میں تقویت ملتی ہے اور سماجی ذمہ د اری سے بھرپور بامقصد صحافت کو فروغ ملتا ہے۔آگاہی ایوارڈز کیلئے اس بار پھر صحافتی برادری کی طرف سے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا۔سوشل میڈیا پر 50 لاکھ اور ایس ایم ایس کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ لوگوں تک پہنچ کر ”پیپلز چوائس ایوارڈز”کیٹگری یعنی ” سال کا مقبول ترین نیوز چینل”اور سال کے کرنٹ آفیئرز اینکرز” کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سال مندرجہ ذیل شعبوں میں سال 2019 ء کے جرنلسٹ کا ایوارڈزجیتنے والے خوش نصیبوں میں ”احتساب عبدالوسیم عباسی انٹر پرینیورشپ صائمہ شبیر،ز رعی پالیسی محمد حسین خان ،ماحول عمر ننگیانہ،چین پاک تعلقات ضمیر اسدی ،کلائمیٹ چینج اسلام گل آفریدی انتہا ء پسندی دہشتگردی عمر باچا،تنازعات فرحت جاوید ربانی خارجہ پالیسی عماد خلیق،سی ایس آر فیاض احمد مستقبل بینی سید بابر علی،شیئر ڈویلیوز ذیشان انور ،ثقافت ورثہ رحیم بخش ساعر ،وقار محمد خان چوتھا صنعتی انقلاب رمشا جہانگیر، ڈیٹا جرنلزم میمونہ رضا عالمی عظمت محمد ابراہیم، جمہوریت2019 ء عبدالرشید حکمرانی منور علی راجپوت، آسان بزنس مبارک زیب خان صحت کریم اسلام ،معیشت فاروق بلوچ انسانی حقوق شمائلہ جعفری،تعلیم شفیق رفیع شناخت عمارہ شیراز،چھپی بھوک کا خاتمہ محمد عاطف شیخ انکلوسونس شازیہ حسن،توانائی ذوالقرنین ہندل،انو ویشن ثنا جمال ،انوویشن جرنلزم ماہ رخ سرور،سکول سے باہر بچے ارشد یوسفزئی،انفوٹینمنٹ فیصل ظفر، میڈیا ضابطے رضوانہ نقوی،فوٹو جرنلزم زورال خرم نائیک،پولیس اصلاحات عدنان عامر،قانون کی حکمرانی احمد سرفراز،ایس آر ایچ آر محمد شہاب الدین،کھیل ثناء جمال،پائیدار ترقیاتی اہداف رضوان احمد طارق،ویڈیو جرنلزم ٹی وی فرقان الہٰی،فنی تیکنکی تعلیم ایاز احمداور پانی کا انتظام اکرام اللہ مروت،ویلفیئر یوسف عجب بلوچ”شامل ہیں۔عوامی پسندیدگی کے شعبے میں مقبول ترین کرنٹ افیئرز اینکر احمد قریشی ، مقبول ترین کرنٹ افیئراینکر(خاتون )ماریہ میمن،مقبول ترین نیوز چینل سال 2019 ء اے آر وائی ، تفتیشی صحافت کیلئے فائونڈرز چوائس ایوارڈز عامر سعید عباسی کو ملا،ظفر اقبال رامے ایکسپریس گروپ کو 2019 ء کا نیوز منیجر قرار دیاگیا۔اس سال مظہر اقبال اور پرویز شوکت کو ” آگاہی ایوارڈز 2019 ء برائے نگہبان صحافت” دیا گیا جو صحافیوںکے حقوق اور مفادات کیلئے ان کی کوشش کا اعتراف ہے ۔آگاہی ایوارڈز صحافتی دیانت کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیںاس شعبے میں وہ ادارے تعاون کرتے ہیںجو برداشت پر مبنی اخلاقی پیشہ وارانہ صحافت کی ترقی چاہتے ہیں۔اس سال پاکستانی سٹیٹ آئل (پی ایس او)، نیسلے، اور اوبر نے ایوارڈز کی کامیابی میں حصہ لیا۔یہ تقریب سفارتکاروں، سفیروں ، رائے سازوں، پالیسی سازوں، صحافیوں اور نوجوانوں کا مرقع تھی جو یہاں نہ صرف صحافیوں کی عزت افزائی کیلئے اکھٹے ہوئے تھے بلکہ ان کا مقصد خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عزم کا اظہار بھی تھا۔تقریب کا اختتام موسیقی اور ایوارڈز کے بانیوں کے اختتامی کلمات پر ہوا۔آگاہی ایوارڈز کا آغاز28 مارچ 2012 ء میں کیا گیا ، یہ پاکستان میں 40 سے زائد شعبوں میں صحافتی خدمات کا اعتراف کرنے والے پہلے ایوارڈزہیں۔آگاہی اور مشعل مشترکہ طور پر ملک کے پریس کلبوں ، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں، دانشوروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اورنجی شعبے کی مدد سے میڈیا کے شعبے میں تنوع کو فروغ دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں