،ڈاکٹر رمیش کمار 53

بارہ ربیع الاول کے موقع پر ایسے شرمناک فیصلے سے مذہبی ہم آہنگی کی کوششوں کو دھچکا پہنچا،ڈاکٹر رمیش کمار

پاکستان ہندو کونسل نے ایودھیا بابری مسجد تنازعہ کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ فیصلے کو شرمناک قرار دے دیا۔ ہفتہ کو سرپرست اعلی اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانگوانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر ایسے شرمناک فیصلے سے مذہبی ہم آہنگی کی کوششوں کو دھچکا پہنچا۔انہوں نے کہا کہ کرتار پور افتتاح کے موقع پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت افسوس ناک ہے،بھارتی سپریم کورٹ فیصلے سے شدت پسندی میں اضافے کا خدشہ ہے،پاکستانی ہندو کمیونٹی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر دکھی ہے، ڈاکٹر رمیشن کمار نے کہا کہ شری رام چندر کی تعلیمات امن پسندی، انسانیت اور بھلائی پر مشتمل ہیں، شری رام کبھی نہیں چاہیں گے کہ انکے پیروکار انکے نام پر اللہ کا گھر ڈھائیں، ایسے غلط اقدام مذہب کی بدنامی اور خدا کے غضب کا باعث بنتے ہیں۔ڈاکٹر رمیش کمار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شدت پسندی کے رحجان پر تشویش ہے، بھارت میں شدت پسندی کی بناء پر پرامن ہندو دھرم کو ہندوتوا / ہندو ٹیررازم کہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج انسانیت کا درد رکھنے والے ہر انسان کی دل آزاری ہوئی ہے، دنیا کا ہر مذہب دوسرے مذاہب کی عبادگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے، ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ پاکستان ہندو کونسل کا بابری مسجد ایشو پر اصولی موقف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں