65

موسم برسات میں فضاء میں رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے مضر اور خطر ناک جراثیم کی نشوونما میں بڑی تیزی آجاتی ہے

ساون کے موسم میں تندرستی کا ساتھ 
تحریر:خمیراہ صدیق
موسم برسات میں فضاء میں رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے مضر اور خطر ناک جراثیم کی نشوونما میں بڑی تیزی آجاتی ہے،جسکی وجہ سے موسمی اور متعدی بیماریاں سر اٹھا لیتی ہیں اس رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے انسان کے نظام انہضام میں بھی تبدیلی آتی ہے اس موسم میں لوگ مٹھی چیزوں کو چھوڑ کر ترش ا شیاء کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو کہ صحت پر برے اثرات منعقد کرتی ہیں ساون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ لیموں کی سکنجبین کا استعمال موسم میں پیدا ہونے والے جراثیم سے بچانے والا مفید قدرتی زریعہ ہے اگر آپ اپنی صحت کو ٹھیک رکھنا چاہتے ہو تو ان تمام اشیاء سے پرہیز کریں جو آپ کو نقصان پہنچاتی ہیں،مثلا بازار کے سموسے پکوڑے ہوٹلوں کے کھانے زیادہ کھانا کھانے سے اور خصوصی جگہ جگہ پر لگی ہوئی چاٹ سے پرہیز کریں کیونکہ یہ چاٹ سب بیماریوں کی جڑ ہے اور ہمارے ملک میں کافی زیادہ لوگ ایسے ہیں جن کا دن کو سوناایک معمول بن گیا ہے دن کو سونا غلط نہیں لیکن ساون کے مہینے میں زیادہ سونے سے خون پتلا ہو جاتا ہے جو بہت ساری بیماریوں کو پیدا کرتا ہے۔ ساون کے مہینے میں انسانی ہڈیاں کچی ہو جاتی ہے جو کسی بھی سخت چیز کو اپنے اندر قبول نہیں کرتی جس سے جسم میں ایک سستی سی رہتی ہے کہتے ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے اس لیے ساون کے موسم میں کھانے پینے میں احتیاط اور ذمہ داری برتنا بہت سی بیماریوں سے بچاوٗ کا سبب ہے ان میں سب سے بڑا مسلہ پانی کا ہے کیونکہ ساون کے مہینے میں شدید بارشیں ہونے کی وجہ سے سطح زمین کی کثافتیں آب باراں میں حل ہو کر بذریعہ مسامات زمین کنواں اور نلکوں کے پانی میں مل کر اسے گندا کر دیتی ہے اور یہ گندا پانی پینے سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں جس کا بہترین حل یہ ہے کہ پانی کو پینے سے پہلے اچھی طرح صاف کر لیں اور اسے ابال کر پییئے اس سے آپ بہت سی بیماریوں سے بچ جاو گئے خاص طور پر اپنے بچوں کوجتنا ہو سکتا ہے اس موسم میں انھیں باہر کی چیز یں کھانے سے بچا کے رکھے زیادہ باہر نہ جانے دے اور خود بھی کوشش کریں کے گھر میں رہے کیونکہ ساون کے مہینے میں کافی زیادہ سموک ہوتی ہے جو ہمارے سانس کے ذریعے سے ہمارے پھیپڑوں میں جاتی ہے جس سے سانس کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے جو کہ ایک خطر ناک بیماری ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں اپنے محلے اپنی گلی کوچوں نالیوں اور یہاں تک کہ اپنے بازاروں کو بھی صاف رکھے اس کے علاوہ اپنے جسم اور اپنے لباس کو بھی صاف رکھے اس سے انسان کہی موزی بیماریوں سے بچ سکتا ہے جیسے کہ ہم سب کو پتا ہے کہ ساون کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے خطر ناک کیڑے مکوڑے بھی جنم لے لیتے ہیں اور وہ محض اس لیے پیدا ہوتے ہے کیونکہ ساون میں گندگی بہت ہوتی ہے اور زمین خشک نہیں ہوتی وہ تر رہتی ہے جگہ جگہ گندا پانی جمع ہوتا ہے جس سے مچھر پیدا ہوتے ہیں جس کو ڈینگی کہا جاتا ہے اس لیے اپنے ارد گرد پانی کو ہرگز جمع نہ ہونے دیں۔اگر آپ کے گھرکے پاس گھاس ہے تو اسے کٹوا دے تا کہ خطر ناک کیڑوں سے بچ سکے خود اور اپنے بچوں کو بھی پوری آستین کے کپڑے پہنائے بازار سے کوئی بھی ایسی چیز نہ لے مثلا، مٹھائی، دودھ،پھل،شربت چاٹ، اور کھانے پینے والی اشیاء جن کو ڈھانپا نہ گیا ہو وہ ہرگز استمعال نہ کریں باسی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں اس موسم میں ایک نمی سی ہوتی ہے جس سے جوڑوں کا درد ہوتا ہے اس موسم میں پودینہ او ر انار دانہ کی چٹنی بنا کر زیادہ سے زیادہ استعمال کریں جگہ جگہ کندگی پھنکنے سے گریز کریں کسی بھی جگہ پہ کوڑا کرکٹ جمع نہ ہونے دے جتنا ہو سکے پانی کو خشک رکھنے کی کوشش کریں اور ان سب چیزوں سے پرہیز کریں جو ہماری صحت پر برے اثرات منعقد کرتی ہو۔ساون کے مہینے میں ڈاکٹروں کی چاندی ہوتی ہے ہوسپیٹل کلینک میں مریضوں کا ایک ہجوم لگا نظر آتا ہے جو کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں صرف اپنی لا پرواہی کی وجہ سے اگر ہم ٹھوڑی سی اپنی فکر کرلیں اور پرہیز کرلیں تو ہمیں کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ ساون کا موسم چل رہا ہے بارشیں زوروں پر ہیں ساون اور بھادوں سال کے دو ایسے مہینے ہوتے ہیں جن میں صحت کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے ان میں ذرا سی لا پرواہی ہمارے لیے جان لیوا بن سکتی ہے اس موسم میں وہ غذا کھائے جو جلدی ہضم ہو جائے اس کے علاوہ گرم چیزیں کھانے سے پرہیز کریں یعنی مچھلی، گوشت، چکن اور بازاری تلی ہوئی اشیاء اگست کے مہینے میں ہرگز نہ کھائے، لسی بھی نہ پیئے اپنے جسم کے کسی بھی حصے کو زیادہ دیر ننگا بھی نہ رکھے رات کو زیادہ دیر نہ جاگے اور اس مہینے میں ایک خاص تدبیر کوشش کریں کہ آپ کو کوئی زخم نہ ہو اور خدانخواستہ کوئی زخم ہو جاتا ہے تو اس میں لاپرواہی بالکل نہ کرے اس کا فوری طور علاج کروائے تا کہ آپ کسی بڑے نقصان سے بچ جائے صحت خدا کی دی ہوئی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اسکو سمبھال کر رکھنا ہمارا فرض ہے

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں