72

مری:جانوروں کے علاج کلفٹن روڈ پر موجود ہےجوجانوروں کو طبعی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ل

مری:جانوروں کے علاج کلفٹن روڈ پر موجود ہے جو مری شہر اور اس کے گردنواح میں واقعہ دیہی علاقوں کے رہاہشیوں کے جانوروں کو طبعی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا لیکن ڈاکٹر کی من مانی کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے جانوروں کے علاج کرانے کے حوالے سے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا،کیونکہ ڈاکٹر عامر، ڈاکٹر عمران، لیڈی ڈاکٹر،اور اُن کا آپاہچ اسٹنٹ شامل ہے مری سے ملحقہ دیہاتوں سے لائے گئے جانوروں کو چیک نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی ادوایات دیتے ہیں دور دراز سے لوگ علی الصبح وٹنری ہسپتال میں جانوروں کو لے کر آجاتے ہیں لیکن ڈاکٹر حضرات نوصبح آنے کی بجائے دن گیارہ یا بارہ بجے ہسپتال تشریف لاتے ہیں مال پانی لگانے والوں کے جانوروں کو کا فوری علاج کرتے ہیں اور مال پانی نہ دینے والا کوئی غریب آدمی بیمار جانور لے کر جائے تو آکر اُس کا مذاق اُڑتے ہیں اور نہ جانور کو ہاتھ لگانا گوارہ کرتے دور سے دیکھ کر پرچی پر دوائی لکھ دیتے ہیں۔ ہسپتال میں ادویات ہونے کے باوجود کسی کو دوائی نہیں دیتے۔ وٹنری ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ملی بھگت سے ہسپتال کے قریب سٹور کھول رکھا ہے اورسرکاری طور پر ملنے والی ادویات کو اپنے سٹور پر پہنچا کر فروخت کرتے ہیں۔ اور ہسپتال میں جانور لے کر آنے والے غریب لوگوں کو خریدنے پر مجبور کرتے ہیں اورڈاکٹر جو ادیات جانور لے کر آنے والوں کو لکھ کر دیتے ہیں وہ صرف اسی سٹور سے ملتی ہے۔ ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے قائم کیے گے سٹور کا نام غوثیہ وٹنری سٹور ہے۔ونٹری ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت اور ان حرکتوں کی وجہ سے کئی غریب لوگوں کے قیمتی جانور مر گے ہیں۔ ونٹری ہسپتال کے ڈاکٹروں کودور دراز علاقوں میں جانوروں کے علاج کے لیے جانے کے حوالے سے فراہم کیے موٹر ساہیکل دئیے گئے ہیں لیکن ڈاکٹروں نے ان کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے رکھا ہوا ہے۔اُن موٹر ساہیکلوں پربچوں کو سکول لے جاتے لاتے یا پھر، پانی بھر کر لاتے اور با امرئے مجبوری کسی کے ساتھ جانا پڑا جائے تو اس سے پیٹرول اور پیسے کی ڈیمانڈکرتے ہیں

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں