127

بھیک مانگنے والے افغانی بچوں کا مال روڈ پر راج……….                                                 

مری(خمیراہ صدیق ) ملکہ کوہسارمری مال ر و ڈ پر افغانی بچوں نے سیاحوں کو تنگ کرنا اپنا ایک معمول بنا لیا۔مختلف انداز میں اشیاء بیچتے ہوئے سیاحوں کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں اور انھیں مختلف طریقوں سے حراسا ں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ننھے سیاحوں کو بھی تنگ کیا جاتا ہے۔ ان سے کھانے والی چیزیں چھننے کی کوشش کی جاتی ہے۔جس پر سیاح شدید غصہ بھی ہوتے ہے اور بچے پریشان بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یو ں لگتا ہے جیسے سب کو مانگنے کی لت لگ گئی ہے۔ کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے جو اتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہو گا جتنی تیزی سے بھیک مانگنے والے ترقی کر رہے ہیں۔ان کی باقائدہ میٹینگ ہوتی ہے جس میں ان بچوں کو زیادہ رش والی جگہ پر منتقل کیا جاتا ہے۔پاکستان کی ہر سڑک، ہر محلے،ہر گلی میں ان بیکاریوں کی ایک بھیڑ سی نظر آتی ہے۔جن میں زیادہ عورتیں چھوٹے بچے اور معذور افراد ہوتے ہے۔جن کو صرف مانگنے کے لیے ہی معذور کیا جاتا ہے۔ جو کہ ایک انتہائی افسوس ناک امر ہے۔پاکستان میں بھیک مانگنے والوں کا پیشہ ایک مافیا میں تبدیل چکا ہے ایک پورا نیٹ ورک ان بیکاریوں کے پیچھے کام کر رہا ہے اور جن سے یہ بھیک منگواتے ہیں ان کو واچ بھی کیا جاتا ہے۔اور ان میں سب سے زیادہ کما کر لانے والے کو اتنے ہی پوش علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے۔معاشی اور معاشرتی طور پر مانگنے کی وجہ کچھ بھی ہو مانگنا ایک لعنت ہے جو معاشرے کو پستی و ذلت کا شکار کرتی ہے جس سے عزت و نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات ونظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔یہ افغانی بچے سیاحوں کے پیچھے پیچھے گھوم کر ان سے اپیل کرتے ہے کہ ان سے وہ چیز خرید لی جائے جو ان کے ذمے کی گئی ہے اور کسی کے نہ لینے پر یہ رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہے اور نئے نئے منصوبے سے عوام سے پیسے لیتے ہیں یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ملکہ کوہسار مری میں ان افغانی بیکاری بچوں کے باعث سیاحت پر برے اثرات منعقد ہو رہے ہیں۔جس کی روک تھام وقت پہ کرنا انتہائی ضروری ہے،

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں