162

مری بیکاریوں اور خواجہ سرا وں کی بھرمال مال روڈ اور دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں سے زبردستی بھیک مانگنے لگے،انتظامیہ خاموش

مری(خمیراہ صدیق سے)دنیا بھر میں گرمائی سیزن اپنے عروج پر گرمی کے ستائے ہوئے سیاحو ں نے مختلف ٹھنڈی جگوں کا انتخاب کر لیا۔ جس میں سب سے پہلے ملکہ کوہسار مری ہے۔ جس کا ملک بھر سے سیاح رخ کرتے ہیں۔ اور یہاں کے ٹھنڈے اور دلفریب موسم سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔مری کے مختلف سیاحتی مقام پر اس وقت سیا حوں کی ایک بھیڑ سی لگی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں سے آئے ہوئے مختلف روپ اپنائے ہوئے بھیک مانگتے ہوئے بچوں، عورتوں،مردوں اور خواجہ سروں نے سیاحوں کا جینا خرام کیا ہوا ہے۔ اور بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنایا ہوا ہے۔ جس سے سیاحوں کی سیرو تفریح اور انجوائے میں خلل پیدا ہوتا ہے۔بھیک مانگنے والی عورتیں او ر بچے سیاحوں کے ڈوپٹے اور شرٹ کھنچ کر ان سے زبردستی کرتے ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ دے کر ہی جائے۔ جو کہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔ ان بھیک مانگنے والوں کا ایک الگ سا گروپ ہوتا ہے اور یہ کسی بھی جگہ جانے سے پہلے پلان کرتے ہے کہ انھوں نے کس انداز سے مانگنا ہے اور کیا کہنا ہے۔ پھر جھوٹی کہانیاں بنائی جاتی ہے۔تاکہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ یہ حرکات وہاں ہوتی ہے جہاں رش زیادہ ہوتا ہے،جیسے کہ مال روڈ، کشمیر پوائنٹ، پنڈی پوائنٹ، موٹر ایجنسی،اور دیگر سیاحتی مقام یہ سب کچھ دیکھ کر بھی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔اور اس پر کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ جو کہ آنے والے وقت میں ایک بہت بڑی پریشانی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اس لیے اس کی روک تھام کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کے لیے کپڑے تو اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے۔کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے ہے کہ کوئی بھی بھیک مانگنے والی عورت یا مرد نے صبح سے شام تک مانگ کر جاتے وقت اپنے بچوں کے لیے کچھ کھانے کا سامان یا کپڑے لیے ہو نہیں لیکن وہ مانگ اسی انداز سے ہوتے ہے کہ ہمارے بچے بھوکے ہے ان کے لیے کچھ لے کے جانا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔یہ ان کی کوئی مجبوری نہیں بلکہ عادت بن گئی ہے۔کیونکہ ان کو پیسا کمانے کا سب سے آسان طریقہ یہی لگتا ہے۔ بھیک مانگ کر اپنا گزارہ کرناہے۔جو کہ اللہ کے نزدیک ایک بہت ناپسندیدہ چیز ہے۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں