111

لوئربازار نزد صدیق چوک کے تاجروں اور رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی دوکانوں اور رہائشوں کے سامنے چار خطرناک عمارتیں

مری لوئربازار نزد صدیق چوک کے تاجروں اور رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی دوکانوں اور رہائشوں کے سامنے چار خطرناک عمارتیں انتہائی مخدوش حالت میں ہیں مری میں کئی دنوں سے جاری برفباری اور بارشوں کی وجہ سے عمارت کے کچھ حصے گر رہے ہیں ان خستہ حال عمارتوں کے کسی وقت بھی گرنے کا اندیشہ ہے جس سے اس مصروف ترین بازار میں کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے کیونکہ ان عمارتوں کے عقب میں کئی منزلہ عمارتیں اور ہوٹل ہیں اگر یہ عمارتیں گرتی ہیں تو اسکے ساتھ دیگر عمارتوں کو بھی بڑا نقصان ہوسکتا ہے جس سے ہم جو نیچے لوئر بازار میں کاروبار کرتے ہیں اور رہائش پذیر بھی ہیں اورگذشتہ کئی ماہ سے اس کرب اور ذہنی پریشانی سے دوچار ہیں اور ہمارے کاروبار بھی تباہ ہوچکے ہیں چند ماہ قبل بھی ان مخدوش عمارتوں سے ملحقہ دوعمارتیں زمین بوس ہوگئی تھیں جس سے دو قیمتی گاڑیاں بھی ملبے تلے دب کر تباہ ہوئیں اس بازار کے تاجروں ،سہیل راجپوت،فیصل سید مالک کشمالہ گارمنٹس ،ایمان الیکٹرانکس ،نورہاؤس،فوزسیزن ٹیلرز،سید افسر ڈینٹل،محمد رضوان رحمانی سردار طفیل ،شبیر سیال اوردیگر نے کمشنر ،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر مری سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ایک انتہائی مصروف ترین بازار اور شاہراہ عام ہے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونماء ہوسکتا ہے لہذا ان عمارتوں کو گرانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اگر جلد ایسا نہ کیا گیا تو جانی ومالی نقصان کا اندیشہ ہے۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں