89

مری میں افسوسناک واقعہ میں 22 سیاحوں کے المناک ہلاکت

مری شدیدبرفباری کے دوران مری میں افسوسناک واقعہ میں 22 سیاحوں کے المناک ہلاکت پروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکا مری میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرکہ مری کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو سرگرمیوں کے لئے دے دیا موسم بہتر ہوتے ہی ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گا انہوں نے مری کی صورتحال کے تناظر میں تمام اداروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے پولیس، انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا گیا،چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ریلیف کمشنر، ڈی جی ریسکیو 1122اور ڈی جی پی ڈی ایم کو ریسکیو سرگرمیوں کی ہدایت،پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنا پہلی ترجیح ہے،وزیر اعلیٰ کی ہدایت پرمری اور ملحقہ علاقوں میں تمام ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری اداروں کو سیاحوں کیلئے کھول دیا گیا ہے،ڈی جی ریسکیو 1122 کو فوری طور پر مری جا کر ریسکیو آپریشن کو لیڈ کرنے کی ہدایت،سنو کٹر اور ضروری مشینری راولپنڈی اور دیگر شہروں سے مری بھجوادی گئی،وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ سیاحوں کی زندگیاں سب سے اہم ہیں سیاحوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پرسیاحوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور ضروری امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے انہوں نے برف باری کے دوران واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد سے دلی رنج کااظہار بھی کیا اورکہاکہ وہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں وزیراعلیٰ پنجاب نے مدادی سرگرمیوں کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے،ادھر شدید برفباری کے دوران کمشنر،ڈپٹی کمشنرراولپنڈی،سی پی او راولپنڈی،سی ٹی اوراولپنڈی اوردیگر اعلیٰ حکام مری پہنچ چکے ہیں اسسٹنٹ کمشنرمری،اے ایس پی مری،ڈی ایس پی ٹریفک مری،ایکسیئن محکمہ ہائی وے،ریسکیو1122 مری سمیت دیگر ادارے بھی امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں اورٹریفک کوبحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں،سیاحوں کو خوراک،کمبل اورگرم کپڑے بھی دئیے جارہے ہیں اورٹریفک کومکمل طور پر بحال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email