dr 26

وفاقی دارالحکومت کا بڑا اسپتال پمز ڈاکٹر و نرسوں کی عدم توجہی کا نشانہ بن گیا

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت کا بڑا اسپتال پمز ڈاکٹر و نرسوں کی عدم توجہی کا نشانہ بن گیا

اسپتال میں آئے مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک روز کا معمول بن گیا

اسپتال کی حالت چھوٹے عطائی کلینک سے بتر ہو گئی اسپتال آئے مریض زلیل و خوار ہونے لگے

ڈاکٹر و نرسوں کا مریضوں سے زیادہ موبائل میں مصروف رہنا مشغلہ بن گیا کوئی جئے یا مرے کوئی پروا نہیں

پمز ہسپتال گائنی وارڈ یونٹ ڈاکٹر ماہ نور کی غفلت کے باعث ایک 21سالہ لڑکی نے وارڈ کے اندر ہی بچے کو جنم دے دیا

مریضہ کی حالت خراب ہونے پر جب لواحقین نے موبائل پر مصروف ڈاکٹر ماہ نور کو بتایا تو موبائل میں مصروف ڈاکٹر کی طرف سے لواحقین کو یہ جواب ملا کے بچی کو کہو تکلیف برداشت کرے تکلیفیں ہوتی رہتی ہیں

ابھی اس بچی کی ڈیلیوری میں بہت ٹائم ہے جبکہ ڈاکٹر کے اس جواب کے 5منٹ بعد بچی نے وارڈ کے اندر ہی بچے کو جنم دےدیا

پمز اسپتال میں مریضوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی جاہیے

عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے اپنے آپکو مسیہا کہنے والوں کے افسران بھی انکے اس گھٹیا عمل میں برابر کے شریک ہیں