Chairman Commerce Committee 30

چیئرمین کامرس کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کا کمیٹیوں میں کمرشل اتاشیوں سے بریفنگ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ سیکرٹری کامرس نے کمیٹی کو وزارت کی کارکردگی اور کردار بارے مفصل بریفنگ دی۔

چیئرمین کمیٹی نے معزز ممبران اور حکام وزارت کامرس کو خوش آمدید کہا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس عبدالزاق داؤد نے بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے عبدالرزاق داود نے بتایا کہ جب حکومت سنبھالی پاکستان میں صنعتیں زوال پزیر ہو رہی تھیں۔ درآمدات میں مسلسل اضافہ اور برآمدات میں کمی ہو رہی تھی۔ وزارت تجارت نے سٹریٹجک پالیسی بنائی اور وزیر اعظم کو پیش کی۔پالیسی کے تحت برآمدی اشیاء کی رینج میں اضافہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ روایتی برآمدی اشیاء کی بجائے نئی مصنوعات کو آگے لایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ پراسیسنگ،آئی ٹی، فارمیسی، انجینئر نگ سمیت دیگر شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔
سیکرٹری کامرس صالح فاروقی نے بریفنگ میں وزارت کے کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ رواں برس ہمارے برآ مداد کے اعدادوشمار اچھے آ رہے جو کہ ماہانہ 2 بلین ڈالرز اور سالانہ 24 بلین ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ برس کووڈ کے باعث ایکسپورٹس کم تھیں لیکن جون میں ہماری ایکسپورٹس بہت اچھی رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان،چین اور یورپ کیلئے ہماری ایکسپورٹس اچھی رہیں۔ گزشتہ برس فروری کے دوران ہمیں ڈبل ڈجٹ گروتھ حاصل ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ سٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی کی سمری ای سی سی کے پاس ہے۔ سٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی 5 سال کیلئے بنائی گئی ہے۔ سیکرٹری کامرس نے کمیٹی کو بریفنگ میں مزید بتایا کہ ڈومیسٹک کامرس پالیسی کا ڈرافٹ آخری مراحل میں ہے۔ڈومیسٹک کامرس پالیسی پاکستان میں پہلی بار آ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی پالیسی اور ایکسپورٹ پالیسی بھی تیار ہو چکی ہے۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2020۔2021 مئی۔جولائی میں ہوم ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور چاول کی برآمداد دیگر اشیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہیں۔چیئرمین کمیٹی ذیشان خانزادہ نے برآمداد بہتر ہونے کو تسلی بخش قرار دیا اور وزارت کی تعریف بھی کی۔ پالیسی ریفارم پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری کامرس نے بتایا کہ ای۔کامرس اور نیشنل ٹیرف پالیسی کابینہ سے منظور ہو چکی ہے۔ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور ایمپورٹ پالیسی آرڈر بھی منظور ہو چکی ہے جبکہ جیو گرافیکل انڈیکیشنز ایکٹ 2020 پر عمل درآمد جاری ہے۔
باسمتی کی پیداوار پر سینیٹر فدا محمد کے سوال کے جواب میں سیکرٹری کامرس نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف صوبوں سندھ، پنجاب، کے پی کے، کے اضلاع میں پیداواری عمل جاری ہے۔چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ پہلے ہمارا باسمتی یہاں سے دیگر ممالک میں جاتا تھا وہاں پیکنگ کر کے اسی کی ملک کی برآمداد شمار ہوتی تھیں لیکن اب اس کی برآمداد پاکستان سے ہو رہی ہیں جس سے ایکسپورٹ اچھی ہوئی ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے جی سی سی ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کے حوالے سے بریفنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹر مرزامحمد آفریدی نے بتایا کہ چاول کی ایکسپورٹ کے ساتھ اس سے جڑے پانی کا مسئلہ بھی حل طلب ہے جس کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے۔انہوں نے کامرس حکام کو زرعی یونیورسٹی کے ساتھ ملکر ایک جامع رپورٹ مرتب کی تجویز بھی پیش کی۔انہوں نے کہا چاول کی پیداوار پر پانی کافی زیادہ لگتا ہے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں پانی ہمارے لئے مسئلہ بن سکتا ہے۔
ایمازون کے حوالے سے سینیٹر نزہت صادق کے سوال پر سیکرٹری کامرس نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔ اب متعلقہ لوگوں کو ٹریننگ اور کورسز کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں۔ سینیٹر دنیش کمار کے ڈومیسٹک کمرشل پالیسی کے حوالے سے سوال پر سیکرٹری کامرس نے اگلی میٹنگ میں اس پرجامع بریفنگ دینے کا کہا۔
چیئرمین کمیٹی ذیشان خانزادہ نے ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش پیچیدگیوں کو اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے وزارت برائے کامرس سے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ 2013 میں بھی ہماری برآمداد 24 بلین تھی اور اب بھی 24 بلین ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم بنگلہ دیش اور ویتنام سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں بنگلہ دیش کی برآمداد 50 بلین اور ویتنام کی برآمداد اس وقت 100 بلین تک پہنچ چکی ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے وزارت کامرس سے اگلی میٹنگ میں وجوہات بھی طلب کرلیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری کامرس سے اگلی میٹنگ میں برآمداد کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے احکامات جاری کئے کہ وزارت وجوہات بیان کریں کہ آخر کیوں ہماری برآمداد دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں نہیں بڑھ رہیں۔معاملے پر بات کرنے کیلئے چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں مشیر برائے کامرس کو بھی طلب کر لیا۔
چیئرمین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ کامرس کی ہر میٹنگ میں کمرشل اتاشیوں سے بریفنگ لیا کریں گے اور ان کی مسائل اور کارکردگی جاننے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے کمرشل اتاشیوں کو باہرممالک میں نمائشوں کا اہتمام کرنا چاہئے اور
اس میں پاکستان کی پیداوار اور مختلف اشیاء کو لوگوں کے سامنے اجاگر کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری ترجیح برآمداد میں اضافے پر مرکوز ہونی چاہئے کیونکہ برآمداد بڑھیں گی تو معیشت بہتر ہوگی اور ملک اور عوام خوشحال ہوں گے۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، سینیٹر فدا محمد، سینیٹر محمد قاسم، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر نزہت صادق، سینیٹر پلواشہ خان، سینیٹر منظور احمد کاکڑ کے علاوہ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور وزارت کامرس کے اعلی حکام نے شرکت کی۔