Punjab-police 46

پنجاب پولیس کے 100 سے زائد تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کردیا جائے گا

پنجاب پولیس کے 100 سے زائد تھانوں کے ایس ایچ اوز کو آج منگل 6 اپریل2021 معطل کردیا جائے گا

جی ہاں صوبہ بھر کے تھانوں میں تعینات کریمنل کیسز میں ملوث تمام ایس ایچ اوز کی شامت آگئی ہے۔

پنجاب کے تھانوں میں ایس ایچ او کی تعیناتیوں کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔

خراب سروس ریکارڈ اور کریمنل کیسز والے ایس ایچ اوز کوآج منگل 6اپریل 2021 ان کے عہدوں سے ہٹادیا جائے گا۔

آئندہ سے ایسے افسران جن کے خلاف کریمنل کیسز زیر سماعت ہیں یا جن کا سروس ریکارڈ خراب ہے انہیں ہرگز ایس ایچ او نہیں لگایا جائے گا۔

کانسٹیبل سے لے کر آفیسرکی سطح تک جس پربھی کریمنل کیس درج ہوگا،اسے فوری طور پر معطل کیا جائے گا اور جب تک مذکورہ افسر یا اہلکار مقدمہ سے بری نہیں ہوجاتا تب تک وہ اپنے عہدے سے معطل ہی رہے گا۔

جس افسر نے انویسٹی گیشن ونگ یا تھانے میں بطور تفتیشی دو برس کام نہ کیا ہو اسے ایس ایچ او ہر گز نہیں لگایا جا ئے گا۔

ایس ایچ او کو تین ماہ سے پہلے عہدے سے ہٹانے سے قبل متعلقہ افسران کو آرپی اوز سے اجازت لینا ہوگی۔

اگر کوئی سی پی او یا ڈی پی او ان گائیڈ لائنز سے انحراف کرتے ہوئے ایس ایچ او کو تعینات کرے گا تو متعلقہ آ ر پی او اسے ہٹانے کا مجاز ہو گا جبکہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی بارے جاری گائیڈ لائنز سے انحراف پر متعلقہ افسران کو ہر صورت جواب دہ ہونا پڑے گا۔

ایس ایچ اوز کی تعیناتیوں کو مزید شفاف بنانے کے لئے پولیس ہیومن ریسورس کے مرکزی ڈیٹا بیس (ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) میں مانیٹرنگ کے نئے فیچرز بھی شامل کئے جارہے ہیں۔

لاہورمیں فارغ ہونے والوں میں کریمنل کیسز میں ملوث 6تھانوں ایس ایچ اوقلعہ گجر سنگھ انسپکٹرمدثر اللہ خان، ایس ایچ او جنوبی چھاؤنی انسپکٹر محمد عتیق ڈوگر،ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن انسپکٹر محمد اظہر نوید، ایڈیشنل ایس ایچ او انسپکٹر محمد بشیر،ایڈیشنل ایس ایچ او کوٹ لکھپت سب انسپکٹر علی شیر، ایڈیشنل ایس ایچ او نشترکالونی سب انسپکٹر اسد عباس جبکہ اختیارات سے تجاوز پر ایس ایچ او اقبال ٹاؤن سب انسپکٹر عبدالواحد شامل ہیں۔