46

تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف اکتیس مارچ کو ملک گیر لانگ مارچ کیا جائے گا۔ ملک ابرار حسین

اسلام آباد:آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کی جانب سے تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش کے خلاف اکتیس مارچ کو ملک گیر لانگ مارچ اور وزارت تعلیم میں کلاسز لگانے کا اعلان کردیا گیاہے،اس بات کا اعلان جمعہ کو نیشنل پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرہ میں کیا گیا جس کی قیادت آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک ابرار حسین نے کی۔ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج، صوبہ پنجاب کے صدر راجہ الیاس کیانی، عرفان مظفرکیانی،صدر کالجز ونگ جاوید اقبال راجہ، ملک حفیظ الرحمن،سردارگل زبیر خان،ملک دین محمد اعوان، رانا سہیل احمد، کرنل فواد،ذوالفقار علی صدیقی،عبدالرحیم، انیس اقبال،عمران درانی، قاسم عباس اوردیگر قائدین نے شرکت اور خطاب کیا جبکہ جڑواں شہروں کے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان، اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔مظاہرین نے پلے کارڈاور بینر اٹھارکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔انہوں نے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کے خلاف نعرے لگائے اور تعلیمی اداروں کو فوری کھولنے کے ساتھ ساتھ شفقت محمود سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں ملک ابرار حسین کاکہنا تھاکہ ملک کو تعلیمی حوالے سے تجربہ گاہ بنا دیاگیاہے، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نئی نسل کو تعلیم سے دور کیا جارہاہے،صرف تعلیمی ادارے ہی ایسی جگہ ہیں جہاں کورونا سے بچاو کے ایس او پیز پر مکمل عمل ہوتاہے اور کسی بھی تعلیمی ادا رے میں کوئی سنگین کیس سامنے نہیں آیا۔ بازار،مارکیٹیں کھلی ہیں، تعلیمی ادارے بند کردیے جاتے ہیں،یہ تعلیمی ترقی کے خلاف سازش ہے جس کا ادراک حکومت کو بھی نہیں ہورہا، انہوں نے کہاکہ کیمریج یونیورسٹی نے بھی اے اور او لیول کے امتحانات کا اعلان کردیاہے لیکن ہمارے سکول بند ہیں۔انہوں نے کہا میٹرک اور انٹر کے بورڈ امتحانات سر پرہیں، پروموٹ پالیسی کی وجہ سے ہونے والا تعلیمی نقصان پورا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو 31مارچ کو ملک گیر لانگ مارچ کیا جائے گا جس میں اساتذہ اوربچوں کے علاوہ والدین بھی شریک ہوں گے، اس دوران وزارت تعلیم میں کلاسز لگائی جائیں گی۔ گزشتہ لاک ڈاون میں حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کے لیے ریلیف اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ چھوٹے سکول مالکان کے لیے قرضے دینے کا باقاعدہ اعلان کیاجس پر تاحال عمل نہیں ہوا۔بدقسمتی سے حکومت سیاسی فیصلوں کی طرح انتظامی فیصلوں پر بھی یوٹرن کی پالیسی پر عمل پیراہے۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ حکومت کورونا سے بچاؤ کی ویکسین اپنے مشیروں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کرے گی اور حقداروں کو نہیں لگائے گی۔ان حالات میں وزیر تعلیم کو گھر بھیجا جائے اورتمام وزرا کی مراعات ختم کی جائیں۔ کورونا کے دوران بند اور مقروض ہونے والے تعلیمی اداروں کی مالی معاونت،بے روزگار ہونے والے اساتذہ کو ریلیف پیکج دیا جائے۔اس موقع پر چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا گیاجس میں مطالبہ کیا گیاہے کہ گیارہ اپریل تک 50فیصد کے ساتھ تمام تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی جائے۔12اپریل سے ایس او پیز کے تحت تمام بچوں کو بلانے کی اجازت دی جائے۔تعلیمی اداروں کی بندش کو آخری آپشن کے طورپر لیا جائے۔نجی تعلیمی اداروں کے متعلق کوئی بھی انتظامی فیصلہ ان کی مشاورت سے کیا جائے،ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف دیاجائے اور آسان شرائط پر بلاسود قرضے دیے جائیں۔ای او بی آئی، سوشل سیکورٹی اور تعلیمی بورڈز کے ساتھ الحاق میں معاونت کی جائے۔مستقل بند ہونے والے اداروں کو ریلیف پیکج دیا جائے جبکہ بجلی پانی،گیس وغیرہ کے یوٹیلٹی بلز کو ڈومیسٹک کیٹیگری میں رکھاجائے۔