IG 24

آئی جی پنجاب انعام غنی کا پولیس ٹریننگ کالج سہالہ, راولپنڈی پولیس لائنز اور آر پی او آفس راولپنڈی کا دورہ

؛ راولپنڈی : انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ ماڈرن پولیسنگ کے تقاضوں کے مطابق پولیس فورس کی جدید پیشہ وارانہ تربیت سے ہی جرائم کا قلع قمع اور سروس ڈیلیوری میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے جو میری اولین ترجیحات میں شامل ہے چنانچہ افسران و اہلکاروں کو پبلک ڈیلنگ میں نرم گفتاری اپناتے ہوئے مددگار فورس کا رویہ اپنانا ہوگاتب ہی پولیس فورس کا تشخص محبت کی علامت کے طور پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرائم کے قلع قمع میں جدید انویسٹی گیشن مہارتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے جبکہ آپریشنل ڈیوٹیز کے ساتھ ساتھ سٹیزن سنٹرک پولیسنگ پر بطور خاص فوکس رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیڈی پولیس آفیسرز پنجاب پولیس کا انتہائی اہم حصہ ہیں اور انکی خدمات سے پورا استفادہ کرنا بھی محکمہ کی ترجیحات میں شامل ہے لہذا صوبے کے تمام اضلاع میں لیڈی پولیس آفیسرز کو نان پولیسنگ ڈیوٹیز سے ہٹا کر فیلڈ میں فرائض کی ادائیگی پر مامور کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسپکٹر عمران عباس جیسے بہادر شہداء پنجاب پولیس کافخر ہیں کیونکہ انہی شہداء کی لازوال قربانیوں سے پنجاب پولیس کو فرائض کی ادائیگی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے مزید قربانیاں دینے کا جذبہ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس اپنے شہداء کی فیملیز کی بہترین ویلفیئر اور مسائل کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر خدمات اور شہادتوں کے باوجود پولیس کا عوامی تشخص ٹھیک نہیں جس کیلئے ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریننگ اداروں میں آنے والے ریکروٹ اہلکار پیشہ وارانہ مہارتیں سیکھنے کے ساتھ اپنی کردار سازی پر بطور خاص توجہ دیں تاکہ وہ فیلڈ میں آ کر اپنے والدین اور محکمہ کی عزت اور نیک نامی میں اضافے کا باعث بنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماتحت اہلکاروں سے پہلے جزا پھر سزا کی پالیسی کے تحت پیش آیا جائے اور سپر وائزری افسران ماتحتان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے پولیسنگ کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پولیس ٹریننگ کالج سہالہ کے دورے, راولپنڈی پولیس لائنز میں انسپکٹر عمران عباس شہید کی فیملی سے ملاقات اور آر پی او آفس راولپنڈی میں افسران سے میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پولیس ٹریننگ کالج سہالہ پہنچنے پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے آئی جی پنجاب کو سلامی پیش کی جبکہ کمانڈنٹ غلام رسول زاہد اور ڈپٹی کمانڈنٹ اشفاق عالم نے آئی جی پنجاب کو پیشہ وارانہ امور بارے بریفنگ دی۔ آئی جی پنجاب نے سکول آف انویسٹی گیشن میں جونیئر کمانڈ کورس میں زیر تربیت افسران کی ٹریننگ کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو مورال بلڈنگ اور رویوں میں تبدیلی بارے ہدایات جاری کیں۔ کمانڈنٹ سہالہ غلام رسول زاہد نے آئی جی پنجاب کو کمپیوٹر لیب, لائبریری, لیڈی ریکروٹ کورس, ڈیجیٹل فائرنگ پریکٹس روم, لیڈی ریکروٹ کورس سمیت دیگر شعبوں کا دورہ بھی کروایا اور جاری کورسز, درپیش سہولیات اور ضروریات بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی پنجاب نے زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیر تربیت افسران و اہلکار ٹریننگ کالج میں جدید مہارتوں کو سیکھ کر پیشہ ورانہ زندگی میں اپلائی کریں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ زیر تربیت اہلکاروں کو عوام دوست پولیسنگ پر فوکس کرتے ہوئے فیلڈ میں آکر پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط بنانے میں اپنا اہم کردار اداکرنا چاہئے۔ انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بطور پولیس آفیسر جہاں آپ پر قیام امن کو برقرار رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہیں اس بات کو یقینی بنانا بھی آپ کا فرض ہے کہ شہریوں کو پولیس سروسز ڈیلیوری کے حوالے سے کسی قسم کی شکایات نہ ہوں۔
بعد ازاں انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب انعام غنی پولیس لائنز راولپنڈی میں شہید انسپکٹر محمد عمران عباس کے گھر پہنچے۔ آئی جی پنجاب کے ہمراہ آرپی او راولپنڈی عمران احمر، سی پی او راولپنڈی احسن یونس، ڈی پی او اٹک سید خالد ہمدانی، ڈی پی او جہلم شاکر حسین داوڑ, ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے، آئی جی پنجاب انعام غنی کی شہید انسپکٹر عمران عباس کے اہل خانہ سے ملاقات، بچوں کو پیار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے شہید کی والدہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا ہر جوان آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہے، آپ نے اپنے شوہر سب انسپکٹر محمد عباس شہید کے بعد بیٹے انسپکٹر عمران عباس شہید کا صدمہ بھی برداشت کیا، آپ کا بے مثال حوصلہ اور قربانیاں ہمارا فخر اورحوصلے کا باعث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب شہید انسپکٹر عمران عباس کے وارث ہیں، اللہ ہمیں طاقت دے ہم ہر قدم آپ کے ساتھ ہیں، شہداء کی قربانیوں سے ہی یہ محکمہ اور ملک قائم و دائم ہے۔
سی پی او محمد احسن یونس نے بتایا کہ پولیس ہیڈکوارٹرز کالونی گیٹ کو شہید انسپکٹر عمران عباس کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے، آئی جی پنجاب انعام غنی کا شہید کانسٹیبل الطاف حسین میس کا دورہ، کھانا کھاتے ملازمین کے ساتھ بیٹھ گئے اور کھانے کا معیار چیک کر کے سراہا، آئی جی پنجاب نے ہیڈ کنسٹیبل محمد علی شہید ماڈل بیرک اور کانسٹیبل سعید اختر شہید سروسز لاؤنج کا بھی دورہ کیا، آئی جی پنجاب نے ماڈل بیرک اور سروسز لاؤنج میں مثالی سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسان اگر چاہے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ پولیس لائنز دورے کے بعد آئی جی پنجاب آر پی او آفس راولپنڈی پہنچے جہاں آر پی او راولپنڈی اور ریجن کے تمام ڈی پی اوز کے ساتھ اجلاس میں ہدایات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں لہذا ڈکیتی، قتل،اغوا ء برائے تاوان سمیت دیگر جرائم کی ایف آئی آر چوبیس گھنٹوں کے اندر لازمی درج کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام کیلئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھوٹے مقدمات درج کرانے والے شہریوں کے خلاف دفعہ 182 کے تحت قانونی ضرور عمل میں لائی جائے تاکہ ایسے لوگوں کا محاسبہ کرکے پولیس پر غیر ضروری ورک لوڈ کم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راولپنڈی ریجن کے تمام اشتہاریوں کو ریکارڈ پر لایا جائے اور اپریل کے پہلے ہفتے تک جس ضلع میں اشتہاری ریکارڈ پر موجود نہ ہوئے وہاں ڈی پی اوز کو جواب دہ دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابل ضمانت جرائم کی ایس ایچ اوز تھانوں کی سطح پر ہی ضمانت لیں اور سنگین جرائم کی روک تھام کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈ بہت بڑی ذمہ داری کا نام ہے اور بطور کمانڈنگ آفیسر آپ کا فرض ہے کہ اپنے ماتحتوں کا مورال بلند رکھتے ہوئے ان کی صلاحیتیوں سے بھرپور استفادہ کریں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ جرائم پیشہ افراد کے لیے خوف کی علامت بنتے بنتے کہیں ہم عوام کے لیے خوف کی وجہ تو نہیں بن رہے۔ ہمیں تو لوگوں کے لیے سایہ کہ مانند ہوناچاہئے اور ان کے لیے سہولیات پیدا کرنے والا نرم گو ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔