National politics 80

ملکی سیاست میں جھوٹ، خریدوفروخت اور الزام تراشیوں کا دور دورہ

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ ملکی سیاست میں جھوٹ، خریدوفروخت اور الزام تراشیوں کا دور دورہ ہے۔ تینوں پارٹیاں پانی میں مدھانی چلا رہی ہیں، جس سے عوام کو کبھی مکھن نصیب نہیں ہو گا۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم سٹیٹس کو کی غلام ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں بھیڑ بکریوں کی طرح انسانوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ وزیراعظم اب الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، اگر ان کی جماعت جیت جائے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ 22کروڑ عوام کو اسلامی نظام چاہیے۔ اسلامی نظام نہیں تھا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، کشمیر بغیر جنگ کے بھارت کو سونپ دیا گیا۔ علماء جدید اور قدیم علوم میں فرق نہ کریں۔ امت کو جوڑنے کے لیے کردار ادا کریں۔ پھر مطالبہ کرتا ہوں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو ہٹایا جائے اور کسی سنجیدہ آدمی کو یہ عہدہ دیا جائے جو علی گیلانی کی قربانیوں کو جانتا ہو۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامعہ عربیہ گوجرانوالہ میں تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید قصوری اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور مہتمم جامعہ عربیہ قاری عطا الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک نے اسناد حاصل کرنے والے طلبا کو اختتامی درس دیا۔
امیر جماعت اسلامی نے قرآن و حدیث کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبا و طالبات اور ان کے اساتذہ اور والدین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مادہ پرستی کے دور میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے ان کی محنت قابل تحسین ہے اور اللہ عزوجل کا خاص کرم ہے۔
سیاسی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے ان امور پر روشنی ڈالی جس کے تحت برصغیر میں دین اور سیاست میں تفریق پیدا کر کے علماء، نظریاتی ذہن کے لوگوں کو کارنر کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں نے برصغیر پر اپنے تین سو سالہ دورِ حکومت میں دین کو مدرسہ اور مسجد تک محدود کرنے کی ہی سازشیں کیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھی بدقسمتی سے ملک پر وہ ٹولہ مسلط ہو گیا جو انگریز کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں عوام کو مسلسل دھوکا دے رہی ہیں۔ وزیراعظم آج الیکشن کمیشن کے خلاف باتیں کر رہے ہیں مگر سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر ان کی پارٹی اور پی پی نے رات کے اندھیرے میں مک مکا کر کے عددی اقلیت کے باوجود اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کرا لیا۔ اس وقت وزیراعظم کہاں تھے۔ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ کی سیاست جاری ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ گزشتہ روز جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ان سے حمایت طلب کی تو انھیں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ ہم نے ابھی تک کسی بھی پارٹی سے کوئی کمٹمنٹ نہیں کی۔ کیوں کہ تینوں بڑی پارٹیوں کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ ان کے فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر انھوں نے ایک بار پھر کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیئرمین شہریار آفریدی کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی وزیر کے الفاظ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا اور کروڑوں پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل دکھے۔
امیر جماعت اسلامی نے علما اور طلبا و طالبات پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں اسلامی انقلاب کے لیے عوام میں بیداری مہم پیدا کریں، قوم کے دکھوں کا مداوا قرآن و سنت کے نظام میں ہے۔ تقریب کے آخر میں انھوں نے خود اسلامی نظام کے حق میں نعرے لگوائے اور شرکاء سے عہد لیا کہ ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کے دست و بازو بن کر بھرپور کردار ادا کریں گے۔
دریں اثنا سراج الحق، دیگر قیادت کے ہمراہ جماعت اسلامی گوجرانوالہ کے مقامی رہنما حافظ حمید الدین اعوان کی رہایش گاہ پر گئے اور انھیں ان کے صاحبزادے کی شادی پر مبارک باد دی۔