Wali Babar was killed 69

ولی بابر قتل کیس کی ناقص تفتیش پر پولیس افسران کیخلاف کارروائی کی جائے، کے یو جے

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے استغاثہ کی غلطیوں کی وجہ سے ایک اور صحافی ولی بابر قتل کیس کے مجرم اعلی عدالت سے بری ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلے کی روشنی میں ولی بابر قتل کیس کی تفتیش سے وابستہ تمام پولیس افسران کیخلاف ناصرف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے بلکہ ان کے خلاف ملزمان کو فائدہ دینے کے جرم میں فوجداری نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے جائیں۔ کے یو جے نے سندھ حکومت سے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام ارکان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے بعد ولی بابر قتل کیس ملکی تاریخ کا دوسرا ہی کیس تھا جس میں ملزمان کو ماتحت عدالتوں سے سزا ہوئی لیکن پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے دونوں ہی کیس کے ملزمان کو اعلی عدالتوں سے بری کردیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی لاڑکانہ سرکٹ بنچ کے فیصلے نے کراچی پولیس کے تفتیشی نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملزمان کو پولیس کی ناقص تفتیش کا فائدہ دیا گیا ہے۔ استغاثہ کا یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ ملزمان کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم سے ہے اس لیے عینی شاہد کا سامنے آنا مشکل ہے جس عینی شاہد کو سامنے لایا گیا وہ پولیس کی طرف سے پلانٹنڈ لگتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے ملزمان کی شناختی پریڈ کے حوالے سے شکوک و شبہات ہیں ملزم فیصل موٹا اور ذیشان عرف مانی کی شناختی پریڈ نہیں کرائی گئی اور نا ہی ذیشان عرف مانی کے بیان کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کال ڈیٹا ریکارڈ پیش کیا گیا پولیس نے ملزمان سے کوئی موبائل فون برآمد نہیں کیا حالانکہ ذیشان عرف مانی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ ولی بابر کا پیچھا کرتے ہوئے اس کی لوکیشن سے فیصل عرف موٹا کو آگاہ کررہا تھا عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کی ناقص تفتیش کا بار بار ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی افسر نے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد نہیں کیا اور صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ واردات کے بعد اسلحہ چھپا دیا گیا تھا اپنی آبزرویشن دیتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ واقعہ جنوری کی راتوں میں ساڑھے نو بجے پیش آیا جس وقت کافی اندھیرا ہوجاتا ہے اور استغاثہ کی جانب سے اس موقع پر روشنی کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نا ہی یہ بتایا گیا کہ عینی شاہد واردات سے کتنے فاصلے پر تھا عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ قتل کا مقصد پیش کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کون نہیں جانتا کہ ولی بابر کو کس نے اور کیوں قتل کرایا لیکن پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے ولی بابر کے اہلخانہ سیت ملک بھر کی صحافی برادری ایک بار پھر انصاف سے محروم رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلہ سندھ پولیس کے ناقص تفتیشی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے سندھ حکومت اس کیس سے جڑے تمام پولیس افسران کیخلاف فوری کارروائی کرے انہیں عہدوں سے ہٹایا جائے اور ان کیخلاف فوجداری نوعیت کے مقدمات درج کیے جائیں پاکستان پہلے ہی ان ممالک کی فہرست میں اولین نمبروں پر ہے جہاں سب سے زیادہ صحافی قتل کیے گئے ہیں جبکہ آزادی صحافت کے حوالے سے بھی پاکستان کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے ۔ ولی بابر قتل کیس کے اس فیصلے سے پاکستان کی عالمی سطح پر مزید بدنامی ہوگی اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کیس کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے اور اعلی ترین عدالت سے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔