Prime Minister Imran Khan 46

10 بلین ٹری سونامی پروگرام میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئےمنصوبہ پر عملدرآمد وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ماحول کو آلودہ کرنے والے عناصر کے اخراج میں واضح کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں، 10 بلین ٹری سونامی پروگرام میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئےمنصوبہ پر عملدرآمد میں سپارکو سے سیٹلائٹ کے ذریعے بھی مدد حاصل کی جائے۔وہ پیر کو یہاں وزیراعظم کی کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم، وزیر مملکت زرتاج گل، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گرین ہائوس گیسز کی تازہ ترین صورتحال اور 10 ارب درخت لگانے کے پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اضافے کی شرح معمول کی طے کردہ نچلی سطح سے 9 فیصد کم ہے جبکہ یہ شرح قومی سطح پر متعین اہداف سے بھی نیچےہے۔ یہ ماحول دوست تبدیلی خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے کامیاب منصوبے اور ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کے سونامی پروگرام کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بتایا کہ درخت کاٹنے کی شرح میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے، 2012 سے 2016 کے دوران یہ کمی سالانہ 12 ہزار ہیکٹرز سے کم ہو کر 8 ہزار ہیکٹرز پر آ گئی ہے اور 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ کی کامیابی سے اس میں مزید کمی آئے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے فی کس درجہ بندی2015 میں 135 تھی جو بہتر ہو کر 2018 میں 133 ہو گئی ہے۔ پاکستان کی ماحولیات کے شعبہ میں کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ پاکستان نے 1990 سے 2020 کے دوران مینگروز کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ کیا ہے جس سے ماحول کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دنیا میں مینگروز کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے اور ہمیں بارشوں کی شدت میں ردوبدل، سیلاب، درجہ حرارت بڑھنے اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے جھیلیں بننے جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ملک میں 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان رواں سال کے وسط تک ایک ارب درخت لگانے کا ہدف حاصل کر لے گا۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں زبردست کام ہو رہا ہے۔ دریں اثنا پاکستان 2023 تک 3.2 ارب درخت لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لے گا۔ اجلاس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، آئی یو سی این اور ایف اے او سمیت تین بین الاقوامی اداروں کے کنسورشیم کے بارے میں بھی بتایا گیا جنہوں نے 10 ارب درخت سونامی پروگرام کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کیلئے پہلے ہی اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 10 ارب درخت لگانے کے منصوبہ سے کورونا کی وبا کے دوران 80 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ پاکستان میں ماحول کو آلودہ کرنے والے عناصر کے اخراج کو صفر تک لانا ممکن ہو سکے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم نے پیشگی اطلاع دینے والے نظام کو قائم کرنے اور فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دریائوں کے پانی کو صاف رکھنے کیلئے پانی صاف کرنے والے پودوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے 10 ارب درخت کے سونامی پروگرام پر پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ملک بھر میں اس پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے سپارکو سے سیٹلائٹ تصاویر کے حصول کے ذریعے بھی مدد حاصل کی جائے۔