Hafiz Muhammad TahirHafiz Muhammad Tahir 34

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا اسلام آباد چرچ میں تقریب سے خطاب

اسلام آباد:وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب و توہین ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے، اگر کسی کے پاس ثبوت اور دلیل ہے تو پیش کرے، بعض عناصر پاکستان دشمن قوتوں کی ایماء پر توہین مذہب و ناموس رسالت کے قانون کو نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت نے ہر سطح پر توہین مذہب و ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکا ہےاور اس سلسلہ میں رابطہ سیل قائم کیا گیا ہے ، پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کی ریاست اور مسلمان محافظ ہیں ، ہر پاکستانی کیلئے قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں ۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو اسلام آباد چرچ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع بشپ ارشد ، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا ابو بکر صابری، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا نعمان حاشر بھی موجود تھے ۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قیام پاکستان میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مشترکہ جدوجہد شامل ہے ، اسلام امن ، سلامتی اور اعتدال کا دین ہے ۔ اسلام غیر مسلموں کے حقوق کا محافظ ہے ۔ آئین پاکستان نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا تعین کر رکھا ہے ، پاکستان میں توہین مذہب و توہین ناموس رسالت کا قانون انسانی جانوں کا محافظ اور فسادات کے روکنے کا سبب ہے ، اگر کسی کو مذہب کے نام پر کوئی ہراساں کرتا ہے تو وہ حکومت کو مطلع کرے ۔ توہین مذہب و ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے ، اگر کسی کو شکایت ہے تو نمائندہ خصوصی کے دفتر میں معلومات دے ہم مکمل ایکشن لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے بعض عناصر بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ تمام اداروں اور این جی اوز کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے مثبت سفارشات کو لائیں ہم ہر خیر کے کام کا خیر مقدم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جبری مذہب کی تبدیلی اور شادیوں کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ اس طرح کے واقعات کو مکمل ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں انٹر فیتھ ہارمنی کونسلز کے کنوینئر مقرر کر دئیے گئے ہیں ۔ مارچ کے پہلے ہفتہ میں تمام مکاتب فکر و مذاہب کے اہم اراکین کا اجلاس بلایا جائے گا۔ تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جبری مذہب کی تبدیلی اور شادیوں کے حوالہ سے اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے واقعات نہیں ہوئے لیکن ان واقعات کو روکا جائے گا ، پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے برابر کے حقوق کے شہری ہیں۔ ہم اقلیتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو مضبوط ، مستحکم اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب اور امن کمیٹیوں کے حوالہ سے جو شکایات ہیں ان کا جائزہ لے رہے ہیں اور غیر قانونی عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کی جائز شکایات کے حل کے لئے نمائندہ خصوصی کے دفتر میں شکایات سیل قائم کر رکھا ہے، اگر کوئی مذہب کے نام پر کسی کو ہراساں کرتا ہے تو وہ مطلع کرے۔