President Arif Alawi 37

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کاآزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد:صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنایا جا سکتا ہے، عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں سے روکے، کشمیر صرف علاقے اور آبادی کا نہیں اب اصولوں کا معاملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفر آباد میں جمعہ کو آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ ستر سال سے زائد عرصہ سے اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، کشمیر کے معاملے پر پاکستانی سیاسی قیادت نے ہمیشہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست کے موقف سے کشمیر کے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں، پاکستان نے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں سے ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت کشمیر کے معاملہ پر ڈوگرہ راج نے سازش کی اور کشمیر کو بھارت کے حوالے کر دیا۔ بھارت جنگ بندی کے لئے خود اقوام متحدہ گیا، اس وقت اقوام متحدہ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن بعد ازاں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکار کیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کے لئے متعدد قراردادیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا بھارتی منصوبہ خطرناک ہے، بھارت نے 33 لاکھ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کئے ہیں جس کا مقصد آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگا کر اپنے ظلم و ستم کو چھپا نہیں سکتا، 2018ءکی اقوام متحدہ کی رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے گھناﺅنے اقدامات کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے، مودی کے انتخابات جیتنے کے لئے پلوامہ حملے کا خطرناک ڈرامہ رچایا جس کا پاکستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا، بھارت غیر ذمہ دار جوہری ملک ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ایک موقع دیا ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت معاملات کو بگاڑ کی طرف لے جارہا ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، تنازعہ کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہی مضمر ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جدوجہد کی، اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ دنیاطویل عرصہ سے حل طلب اس تنازعہ سے منہ نہیں موڑ سکتی۔صدر نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت بین الاقوامی فورموں پر بھارت کے گھناونے اقدامات کو اجاگر کرتا رہے گا۔ صدر نے کہا کہ بھارت نے اپنے جرائم چھپانے کے لئے مقبوضہ علاقے میں مواصلات اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال کی مذمت کی۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز سے سینکڑوں بزرگ نوجوان اور بچے بینائی سے محروم ہو گئے ہیں، دنیا بھر میں کہیں اور پیلٹ گنز استعمال نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ 80 لاکھ آبادی والے علاقے میں بھارت نو لاکھ فوج تعینات کرکے اور متنازعہ قانون سازی کر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان تمام حربوں کے باوجود، کشمیری عوام ظالمانہ ہندوستانی چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنی جدوجہد پر قائم ہیں۔صدر نے کہا کہ ہندوستان زمینی صورتحال کو دیکھنے کے لئے بین الاقوامی میڈیا کو غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کے کشمیر سے متعلق انسانی حقوق کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں بھی کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 73 سال کے دوران چاہے کسی کی بھی حکومت ہو ہمارا کشمیر سے متعلق موقف یکساں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صرف زمین کا نہیں بلکہ اصولوں کا معاملہ ہے۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے بھی اسمبلی اجلاس سے خطاب کیا۔