Turkish drama 70

وزیرِ اعظم عمران خان کی مشہور ترک ڈرامہ سیریل ارتغرل کی بانی ٹیم سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد:وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کا اقتدار سنہری دور تھا مگر افسوس کہ نوجوان نسل کو اس کے بارے معلوم نہیں، کوشش کی جائے کہ اس سنہری دور پر فلم اور ڈرامہ بنا کر پرو پیگنڈا کرنے والوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے،پاکستانی ڈرامے 80 کی دہائی تک پوری دنیا میں اپنی پہچان آپ تھے، پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو مقامی ثقافت کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مغرب سے مرعوب نوجوان نسل کو اپنی اصل ثقافت سے آگاہی دی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمال تیکدین کی زیر قیادت مشہور ترک ڈرامہ سیریل ارتغرل کی بانی ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی اور ترک اور پاکستان کی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں ترکی اور پاکستان کے تعاون سے تحریکِ خلافت کے برصغیر سے تعلق رکھنے والے مشہور کرداد ترک لالہ پر مجوزہ ٹیلی ویژن سیریز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے اجلاس کو ترک لالہ کے تحریک خلافت کیلئے اہم کردار اور ترکی میں ان کی اہمیت کے بارے آگاہ کیا، مزید پاکستانی نوجوان نسل کو اپنے تاریخی ہیروز سے آگاہی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ کمال تیکدین نے وزیرِ اعظم کا پاکستان میں ترک ڈراموں کو نشر کرنے کا اقدام قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردگان کا وژن ایک ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے اس کی نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور اپنی تقافت سے آگاہی ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ ہر سال 30 جون کو ترکی میں ترک لالہ کے احترام میں ان کا قومی دن منایا جاتا ہے، ترک لالہ پر بننے والی ٹیلی ویژن سیریز نہ صرف تحریکِ خلافت کے بارے نوجوانوں کو آگاہی دے گی بلکہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کرے گی۔ مزید یہ کہ ترکی کی ٹیم پاکستان حکومت کے اس منصوبے میں تعاون سے انتہائی خوش ہے اور یہ تقافتی میدان میں دونوں ملکوں میں مماثلت کو اجاگر کرکے لوگوں کے تعلقات مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی ڈرامے 80 کی دہائی تک پوری دنیا میں اپنی پہچان آپ تھے، پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو مقامی ثقافت کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مغرب سے مرعوب نوجوان نسل کو اپنی اصل ثقافت سے آگاہی دی جا سکے اور ایسی معاشرتی برائیوں سے بچایا جا سکے جس سے ہمسایہ ممالک کی نئی نسل مغربی مواد نشر ہونے کی وجہ سے دوچار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری معیاری مقامی پیشکش نشر کرے تو نہ صرف یہ ترقی کرے گی بلکہ یہ نوجوان نسل کو سطحی اور گلیمرائزڈ نشری مواد کا متبادل فراہم کرے گی جس کو پذیرائی ملے گی جیسا کہ ارتغرل کے معاملے میں دیکھنے میں آیا۔ مزید وزیرِ اعظم نے کہا کہ برصغیر میں مسلمانوں کا اقتدار سنہری دور تھا مگر افسوس کہ نوجوان نسل کو اس کے بارے معلوم نہیں، کوشش کی جائے کہ اس سنہری دور پر فلم اور ڈرامہ بنا کر پرو پیگنڈا کرنے والوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے منصوبے کو سراہتے ہوئے حکومت کے طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔