Election Commission 15

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک اہم اجلاس

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک اہم اجلاس آج الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں چیف الیکشن کمشنر جناب سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ حکومت پنجاب اور الیکشن کمیشن کے دیگر افسران نے شرکت کی ۔
الیکشن کمیشن کا آج کااجلاس پچھلے اجلاس مورخہ 30دسمبر 2020ء کا تسلسل تھا جس میں حکومت پنجاب کو ہدایات جاری کی گئی تھی کہ وہ آج کے اجلاس میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخوں کے حوالے سے کمیشن کو آگاہ کرے ۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں وضاحت کی کہ این سی او سی نے Covid-19 کی وباء کے پھیلا و کے تناظر میں بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنے کی سفارش کی ہے جس کی روشنی میں حکومت پنجاب بلدیاتی الیکشن کی تاریخ دینے سے فی الحال قاصر ہے ۔
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کے موقف پر الیکشن کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پنجاب حکومت لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی پورے ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کے انعقاد کا پروگرام Covid-19 ایس او پیز کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جاری کر چکا ہے ۔ لہذا Covid-19 کے حوالے سے پنجاب حکومت کا بلدیاتی انتخابات کے التواء کے عزر کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن نے حکومت پنجاب کو مزید ہدایت کی کہ پنجاب حکومت 10 جنوری 2021ء تک ویلج و نیبر ہوڈ کونسلز ز کے ناموں کی اشاعت کرے ۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ 10جنوری تک ناموں کی اشاعت کر دی جائے گی۔مزیدبرآں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کے حوالے سے مہلت مانگی جس پر الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ وہ 15 دن کے اندر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019کی دفعہ91 کے تحت انتخابات کی تاریخوں سے کمیشن کو آگاہ کرے ۔اس ضمن میں کمیشن کا آئندہ مشاورتی اجلاس 15 دن کے بعد طلب کر لیا گیا۔
فارن فنڈنگ کمیٹی نے کیسز کےحوالے سے کمیشن کو بریف کیا ۔ کمیشن نے کمیٹی کے اب تک کے کام پر اطمیان کا اظہار کیا لیکن سکروٹنی کے عمل میں تاخیر پر تشویش کا بھی اظہار کیا جس پر کمیٹی نے کمیشن کے سامنے وضاحت کی کہ فریقین کے وکلاء ہائیکورٹس میں مصروفیات کی وجہ سے کمیٹی کی میٹنگز میں دیر سے آتے ہیں اور کم وقت دے پاتےہیں ۔ کمیشن نے کمیٹی اور فریقین کو ہدایات جاری کئے کہ کمیٹی ہر ہفتے میں تین دن کام کرے اور کوشش کرے کہ سکروٹنی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔
اجلاس کو ووٹر لسٹوں میں موجود صنفی فر ق کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا اجلاس کو بتا یا گیا کہ 2019ء میں انتخابی فہرستوں میں صنفی فرق 11.7 فیصد تھا جو کہ 2020 ء میں کم ہو کر 10.7 فیصد رہ گیا ہے ۔
چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ 10 دن کے اندر اندر ایک ایکشن پلان بنائے جس کے تحت ان اضلاع کو ٹارگٹ کیا جائے جہاں پر صنفی فرق زیادہ ہے ۔ اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز کا مشاورتی اجلاس جلد منعقد کرایا جائے ۔